قرآني·Qurani
اردو

الأيمان والنذور

84 احادیث · #3242–3325

حدیث 3312 — سنن أبي داود 22:71
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، ‏:‏ أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَوْفِي بِنَذْرِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لِصَنَمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لِوَثَنٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ أَوْفِي بِنَذْرِكِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بجا کر ) اپنی نذر پوری کر لو اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر ( بھی ) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کسی صنم ( بت ) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: کسی وثن ( بت ) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو ۔
حدیث 3313 — سنن أبي داود 22:72
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ ‏:‏ نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ لاَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں ۔
حدیث 3314 — سنن أبي داود 22:73
صحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ، مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ، قَالَتْ ‏:‏ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ ‏:‏ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ أُبِدُّهُ بَصَرِي، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ ‏:‏ الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا إِلَيْهِ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ قَالَتْ ‏:‏ فَأَقَرَّ لَهُ وَوَقَفَ فَاسْتَمَعَ مِنْهُ فَقَالَ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهَا قَالَتْ خَمْسِينَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ هَلْ بِهَا مِنَ الأَوْثَانِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِهِ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ فَجَمَعَهَا فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا فَانْفَلَتَتْ مِنْهَا شَاةٌ فَطَلَبَهَا، وَهُوَ يَقُولُ ‏:‏ اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي ‏.‏ فَظَفِرَهَا فَذَبَحَهَا ‏.‏
میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا: شن شن ( درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے ) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور ( جا کر ) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو انہوں نے ( بکریاں ) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔
حدیث 3315 — سنن أبي داود 22:74
صحیحصحیححسن LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا، نَحْوَهُ مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَىْءٌ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ هَلْ بِهَا وَثَنٌ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ لاَ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ وَمَشْىٌ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ ‏:‏ أَنَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ ‏:‏ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے، اور پیدل حج کرنا ہے، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے: کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں؟ ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حدیث 3316 — سنن أبي داود 22:75
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim (1641)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏:‏ قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَقِيلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ قَالَ ‏:‏ فَأُسِرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي وَثَاقٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ ‏:‏ يَا مُحَمَّدُ عَلاَمَ تَأْخُذُنِي وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَكَانَ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ وَقَدْ قَالَ فِيمَا قَالَ ‏:‏ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ ‏:‏ وَقَدْ أَسْلَمْتُ ‏.‏ فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى - نَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ إِنِّي مُسْلِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاَحِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَالَ ‏:‏ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي ‏.‏ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ هَذِهِ حَاجَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ هَذِهِ حَاجَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ - قَالَ - فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ - قَالَ - فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - قَالَ - فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ - قَالَ - فَنُوِّمُوا لَيْلَةً وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَجَعَلَتْ لاَ تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلاَّ رَغَا حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ - قَالَ - فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ - قَالَ - فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا - قَالَ - فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عُرِفَتِ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَجِيءَ بِهَا وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏:‏ ‏"‏ جَزَتْهَا ‏"‏ ‏.‏ ‏:‏ ‏"‏ إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ ‏.‏
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی ( عضباء ) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے ( آپ نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہی تمہارا مقصد ہے یا: یہی اس کا مقصد ہے ۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا ( یعنی واپس نہیں کیا ) ۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت ( نکل بھاگنے کے ارادہ ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں۔
حدیث 3317 — سنن أبي داود 22:76
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قُلْتُ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ ‏:‏ إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ ‏.‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔
حدیث 3318 — سنن أبي داود 22:77
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ ‏:‏ إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى ‏:‏ ‏ "‏ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاتا ہوں، پھر آگے راوی نے اسی طرح حدیث بیان کی: «خير لك» تک۔
حدیث 3319 — سنن أبي داود 22:78
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ‏:‏ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے جسے اللہ نے چاہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری توبہ میں شامل ہے کہ میں اپنے اس گھر سے جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ہجرت کر جاؤں اور اپنے سارے مال کو صدقہ کر کے اس سے دستبردار ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ثلث کا صدقہ کر دینا تمہیں کافی ہو گا ۔
حدیث 3320 — سنن أبي داود 22:79
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ ‏:‏ كَانَ أَبُو لُبَابَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْقِصَّةُ لأَبِي لُبَابَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ رَوَاهُ يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بَعْضِ بَنِي السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ مِثْلَهُ ‏.‏
زہری کہتے ہیں: مجھے ابن کعب بن مالک نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور واقعہ ابولبابہ کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس نے ابن شہاب سے اور ابن شہاب نے سائب بن ابولبابہ کے بیٹوں میں سے کسی سے روایت کیا ہے نیز اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدیث 3321 — سنن أبي داود 22:80
حسن Sahihحسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي قِصَّتِهِ قَالَ قُلْتُ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَدَقَةً ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ فَنِصْفَهُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ فَثُلُثَهُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ ‏.‏
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔