عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں ، اور دیت خطا میں تیس حقہ ، تیس بنت لبون ، بیس ابن لبون ، اور بیس بنت مخاض ہیں ۔
ید بن ثابت سے دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں مروی ہے پھر راوی نے ہو بہو اسی کے مثل ذکر کیا جیسے اوپر گزرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں ابو عبید اور دوسرے بہت سے لوگوں نے کہا : اونٹ جب چوتھے سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «حق» اور مادہ کو «حقة» کہتے ہیں ، اس لیے کہ اب وہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس پر بار لادا جائے ، اور سواری کی جائے اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «جذع» اور مادہ کو «جذعة» کہتے ہیں ، اور جب چھٹے سال میں داخل ہو جائے ، اور سامنے کے دانت نکال دے تو نر کو «ثني» اور مادہ کو «ثنية» کہتے ہیں ، اور جب ساتویں سال میں داخل ہو جائے تو نر کو «رباع» اور مادہ کو «رباعية» کہتے ہیں ، اور جب آٹھویں سال میں داخل ہو جائے ، اور وہ دانت نکال دے جو «رباعية» کے بعد ہے تو نر کو «سديس» اور مادہ کو «سدس» کہتے ہیں : اور جب نویں سال میں داخل ہو جائے اور اس کی کچلیاں نکل آئیں تو اسے «بازل» کہتے ہیں ، اور جب دسویں سال میں داخل ہو جائے تو وہ «مخلف» ہے ، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ہوتا ، البتہ یوں کہا جاتا ہے ایک سال کا ب«بازل» ، دو سال کا «بازل» ایک سال کا «مخلف» ، دو سال کا «مخلف» اسی طرح جتنا بڑھتا جائے ۔ نضر بن شمیل کہتے ہیں : ایک سال کی «بنت مخاض» ہے ، دو سال کی «بنت لبون» ، تین سال کی «حقة» ، چار سال کی «جذعة» پانچ سال کا «ثني» چھ سال کا «رباع» ، سات سال کا «سديس» ، آٹھ سال کا «بازل» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوحاتم اور اصمعی نے کہا : «جذوعة» ایک وقت ہے ناکہ کسی مخصوص سن کا نام ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : جب اونٹ اپنے «رباعیہ» ڈال دے تو وہ «رباع» اور جب «ثنیہ» ڈال دے تو «ثني» ہے ۔ ابو عبید کہتے ہیں : جب وہ حاملہ ہو جائے تو اسے «خلفہ» کہتے ہیں اور وہ دس ماہ تک «خلفة» کہلاتا ہے ، جب دس ماہ کا ہو جائے تو اسے «عشراء» کہتے ہیں ۔ ابوحاتم نے کہا : جب وہ «ثنیہ» ڈال دے تو «ثني» ہے اور «رباعیہ» ڈال دے تو «رباع» ہے ۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں تمام برابر ہیں میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر ۔
حدیث 4560 — سنن أبي داود 41:67
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالأَصَابِعُ سَوَاءٌ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں سب برابر ہیں ۔
حدیث 4561 — سنن أبي داود 41:68
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءً .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کی انگلیوں کو برابر قرار دیا۔
حدیث 4562 — سنن أبي داود 41:69
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ " فِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں ۔
حدیث 4563 — سنن أبي داود 41:70
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي الأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانتوں میں پانچ پانچ ( اونٹ ) ہیں ۔