قرآني·Qurani
اردو

الديات

102 احادیث · #4494–4595

حدیث 4564 — سنن أبي داود 41:71
حسنحسنحسن
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ شَيْبَانَ، - وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ، - صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ - قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ - عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الإِبِلِ فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا وَإِذَا هَاجَتْ رُخْصًا نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَيْنَ أَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَمَنْ كَانَ دِيَةُ عَقْلِهِ فِي الشَّاءِ فَأَلْفَىْ شَاةٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الأَنْفِ إِذَا جُدِعَ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَإِنْ جُدِعَتْ ثَنْدُوَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ خَمْسُونَ مِنَ الإِبِلِ أَوْ عَدْلُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوْ مِائَةُ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفُ شَاةٍ وَفِي الْيَدِ إِذَا قُطِعَتْ نِصْفُ الْعَقْلِ وَفِي الرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلاَثٌ وَثَلاَثُونَ مِنَ الإِبِلِ وَثُلْثٌ أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةُ مِثْلُ ذَلِكَ وَفِي الأَصَابِعِ فِي كُلِّ أُصْبُعٍ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ وَفِي الأَسْنَانِ فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لاَ يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا فَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَىْءٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ فَوَارِثُهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ وَلاَ يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ هَذَا كُلُّهُ حَدَّثَنِي بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ هَرَبَ إِلَى الْبَصْرَةِ مِنَ الْقَتْلِ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گاؤں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہو جاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے ( دیت کی قیمت ) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے بیل والوں پر ( دیت میں ) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہو گی۔ اور اگر اس کا بانسہ ( دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی ) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہو گی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہو گی، پیر میں بھی آدھی دیت ہو گی۔ اور مامومہ ۱؎ میں ایک تہائی دیت ہو گی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ ۲؎ میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہو گی ( یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا ) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں ( جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ ) اور اگر وہ قتل کر دی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی ( نہ کہ عصبات میں ) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے ( اگر قصاص لینا ہو ) ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہو گا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہو گا ۔
حدیث 4565 — سنن أبي داود 41:72
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ الْعَامِلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ - عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ مُوسَى - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلاَ يُقْتَلُ صَاحِبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَزَادَنَا خَلِيلٌ عَنِ ابْنِ رَاشِدٍ ‏"‏ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونَ دِمَاءٌ فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلاَ حَمْلِ سِلاَحٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے یہ ( قتل شبہ عمد ) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہو جاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا ۔
حدیث 4566 — سنن أبي داود 41:73
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي الْمُعَلِّمَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مواضح» ۱؎ میں دیت پانچ اونٹ ہے ۔
حدیث 4567 — سنن أبي داود 41:74
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْعَلاَءُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلُثِ الدِّيَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث 4568 — سنن أبي داود 41:75
صحیحصحیحصحیح Muslim (1682)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ كَيْفَ نَدِي مَنْ لاَ صَاحَ وَلاَ أَكَلَ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ اسْتَهَلَّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، ( اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ ( لونڈی یا غلام ) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ ( وارثین ) کے ذمہ ٹھہرایا۔
حدیث 4569 — سنن أبي داود 41:76
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1682)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏ وَزَادَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏
اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ ( غلام یا لونڈی ) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث 4570 — سنن أبي داود 41:77
صحیحصحیحصحیح Muslim (1683)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ، اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ‏.‏ فَقَالَ ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ ‏.‏ فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ - زَادَ هَارُونُ - فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرَبَ الرَّجُلُ بَطْنَ امْرَأَتِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلاَصًا لأَنَّ الْمَرْأَةَ تَزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلاَدَةِ وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ ‏.‏
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔
حدیث 4571 — سنن أبي داود 41:78
ضعیفصحیحصحیح Bukhari (6905)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنَ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ، بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ ‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔
حدیث 4572 — سنن أبي داود 41:79
صحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَامَ إِلَيْهِ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ ‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی ( روٹی پکانے کی لکڑی ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا:«مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔
حدیث 4573 — سنن أبي داود 41:80
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَامَ عُمَرُ رضى الله عنه عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأَنْ تُقْتَلَ ‏.‏ زَادَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا ‏.‏
طاؤس کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔