مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ۱؎۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے ۔
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا ( بغیر اپنے والد کے واسطہ کے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
حدیث 696 — سنن أبي داود 2:306
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (496) Sahih Muslim (508)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، وَالنُّفَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ وَكَانَ بَيْنَ مُقَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مَمَرُّ عَنْزٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْخَبَرُ لِلنُّفَيْلِيِّ .
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ ( کی دیوار ) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کرے ( یعنی سختی سے روکے ) کیونکہ وہ شیطان ہے ۱؎ ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کر دیا، پھر ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) کہا: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے ( یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے ) ۔
ابوصالح کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو ( جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے ) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ( یعنی سختی سے دفع کرے ) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔