قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

770 احادیث · #391–1160

حدیث 701 — سنن أبي داود 2:311
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (510) Sahih Muslim (507)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً ‏.‏
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس ( دن یا مہینے یا سال تک ) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔
حدیث 702 — سنن أبي داود 2:312
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (510)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، وَابْنُ، كَثِيرٍ - الْمَعْنَى - أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، - قَالَ حَفْصٌ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالاَ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ ‏"‏ يَقْطَعُ صَلاَةَ الرَّجُلِ - إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قِيدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ ‏"‏ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ۱؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
حدیث 703 — سنن أبي داود 2:313
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رَفَعَهُ شُعْبَةُ - قَالَ ‏ "‏ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَفَهُ سَعِيدٌ وَهِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے) : نماز حائضہ عورت اور کتا ( مصلی کے سامنے گزرنے ) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
حدیث 704 — سنن أبي داود 2:314
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاَتَهُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ وَيُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي نَفْسِي مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ شَىْءٌ كُنْتُ أُذَاكِرُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرَهُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا جَاءَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَلاَ يَعْرِفُهُ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَأَحْسَبُ الْوَهَمَ مِنَ ابْنِ أَبِي سَمِينَةَ - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - وَالْمُنْكَرُ فِيهِ ذِكْرُ الْمَجُوسِيِّ وَفِيهِ ‏"‏ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَذِكْرُ الْخِنْزِيرِ وَفِيهِ نَكَارَةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَأَحْسَبُهُ وَهِمَ لأَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنَا مِنْ حِفْظِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہو جاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہو جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا ( سوائے معاذ کے ) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ ( یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
حدیث 705 — سنن أبي داود 2:315
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلًى، لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً بِتَبُوكَ مُقْعَدًا فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ ‏.‏
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔
حدیث 706 — سنن أبي داود 2:316
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ فَقَالَ ‏"‏ قَطَعَ صَلاَتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ فِيهِ ‏"‏ قَطَعَ صَلاَتَنَا ‏"‏ ‏.‏
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔
حدیث 707 — سنن أبي داود 2:317
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ فَإِذَا رَجُلٌ مُقْعَدٌ فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ فَقَالَ لَهُ سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلاَ تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَىٌّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ قِبْلَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلاَمٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا فَقَالَ ‏"‏ قَطَعَ صَلاَتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا ‏.‏
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چنانچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہو سکا۔
حدیث 708 — سنن أبي داود 2:318
حسن Sahihحسن Sahihصحیح LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ - يَعْنِي - فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا حَتَّى لَصِقَ بَطْنُهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ مُسَدَّدٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اذاخر ۱؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جا سکے، آخر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدیث 709 — سنن أبي داود 2:319
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فَذَهَبَ جَدْىٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دور کرنے لگے۔
حدیث 710 — سنن أبي داود 2:320
صحیحصحیحIsnaad Sahih Sahih Bukhari (383) Sahih Muslim (512)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ بَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ - قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهَا قَالَتْ - وَأَنَا حَائِضٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَطَاءٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ وَأَبُو الأَسْوَدِ وَتَمِيمُ بْنُ سَلَمَةَ كُلُّهُمْ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَإِبْرَاهِيمُ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبُو الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ لَمْ يَذْكُرُوا ‏ "‏ وَأَنَا حَائِضٌ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے «وأنا حائض» اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔