قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

770 احادیث · #391–1160

حدیث 1091 — سنن أبي داود 2:702
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ ‏"‏ اجْلِسُوا ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلاً إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے ) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: عبداللہ بن مسعود! تم آ جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، ( یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں حسن سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو)
حدیث 1092 — سنن أبي داود 2:703
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرُغَ - أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ - ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ فَلاَ يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ کے دن ) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر ( تھوڑی دیر ) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔
حدیث 1093 — سنن أبي داود 2:704
حسنحسنصحیح Lighairihiصحیح Muslim (862)
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ فَقَالَ فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَىْ صَلاَةٍ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ کے دن ) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر ( تھوڑی دیر ) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔
حدیث 1094 — سنن أبي داود 2:705
حسنحسنصحیح Lighairihiصحیح Muslim (862)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جمعہ کے دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ ( تھوڑی دیر ) بیٹھتے تھے، ( خطبہ میں ) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
حدیث 1095 — سنن أبي داود 2:706
حسنحسنصحیح LighairihiIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لاَ يَتَكَلَّمُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدیث 1096 — سنن أبي داود 2:707
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ زُرْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَأَمَرَ بِنَا أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَىْءٍ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ قَالَ ثَبَّتَنِي فِي شَىْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ ‏.‏
شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس ( جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا ) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: لوگو! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لا سکتے، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہو جاؤ ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔
حدیث 1097 — سنن أبي داود 2:708
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لاَ يَضُرُّ إِلاَّ نَفْسَهُ وَلاَ يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔
حدیث 1098 — سنن أبي داود 2:709
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ تَشَهُّدِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ ‏ "‏ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ‏"‏ ‏.‏ وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ ‏.‏
یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: «ومن يعصهما فقد غوى ‏ ‏ ‏.‏ ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں ۔
حدیث 1099 — سنن أبي داود 2:710
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا، خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَالَ ‏ "‏ قُمْ - أَوِ اذْهَبْ - بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: «من يطع الله ورسوله ومن يعصهما» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ۱؎ ۔
حدیث 1100 — سنن أبي داود 2:711
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (873)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ مَا حَفِظْتُ ق إِلاَّ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ قَالَتْ وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ‏.‏
(ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ( مبارک ) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔