حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ .
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے۔
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن ( منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر ) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے ( یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے ( جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے ) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر، بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔
حدیث 1106 — سنن أبي داود 2:717
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ .
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث 1107 — سنن أبي داود 2:718
حسنحسنحسن
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ .
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے، وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خطبہ میں حاضر رہا کرو اور امام سے قریب رہو کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے گرچہ وہ اس میں داخل ہوتا ہے ۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر پڑے، انہیں اٹھا لیا اور لے کر منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ( التغابن: ۱۵ ) تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا ، پھر آپ نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کر دیا۔
حدیث 1110 — سنن أبي داود 2:721
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ .
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ ۱؎ ( گوٹ مار کر بیٹھنے سے ) منع فرمایا ہے ۲؎۔