قرآني·Qurani
اردو

اللباس

139 احادیث · #4020–4158

حدیث 4120 — سنن أبي داود 34:101
صحیحصحیحصحیح Bukhari (1492) Sahih Muslim (363)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - قَالَ مُسَدَّدٌ وَوَهْبٌ - عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ أُهْدِيَ لِمَوْلاَةٍ لَنَا شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کر دیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ( نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا ) ۔
حدیث 4121 — سنن أبي داود 34:102
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1492) Sahih Muslim (363)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرْ مَيْمُونَةَ قَالَ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرِ الدِّبَاغَ ‏.‏
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے، زہری کہتے ہیں: اس پر آپ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اور دباغت کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث 4122 — سنن أبي داود 34:103
صحیح Isnaad Maqtuصحیح Isnaad Maqtuضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ يُسْتَمْتَعُ بِهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ الأَوْزَاعِيُّ وَيُونُسُ وَعُقَيْلٌ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ الدِّبَاغَ وَذَكَرَهُ الزُّبَيْدِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَحَفْصُ بْنُ الْوَلِيدِ ذَكَرُوا الدِّبَاغَ ‏.‏
معمر کہتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں دباغت کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔
حدیث 4123 — سنن أبي داود 34:104
صحیحصحیحصحیح Muslim (366)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب چمڑہ دباغت دے دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔
حدیث 4124 — سنن أبي داود 34:105
ضعیفضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔
حدیث 4125 — سنن أبي داود 34:106
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَتَى عَلَى بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ دِبَاغُهَا طُهُورُهَا ‏"‏ ‏.‏
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں ایک گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک مشک لٹک رہی تھی آپ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مردار کے کھال کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباغت سے پاک ہو گئی ہے ۔
حدیث 4126 — سنن أبي داود 34:107
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا ‏.‏ فَقَالَتْ أَوَيَحِلُّ ذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ ‏"‏ ‏.‏
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی ۔
حدیث 4127 — سنن أبي داود 34:108
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ ‏ "‏ أَنْ لاَ تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے ۔
حدیث 4128 — سنن أبي داود 34:109
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ - رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ - قَالَ الْحَكَمُ فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ فَخَرَجُوا إِلَىَّ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لاَ يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فَإِذَا دُبِغَ لاَ يُقَالُ لَهُ إِهَابٌ إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ ‏.‏
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کہتے ہیں: «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب»نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎۔
حدیث 4129 — سنن أبي داود 34:110
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلاَ النِّمَارَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لاَ يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيرَةَ ‏.‏
امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔