قرآني·Qurani
اردو

اللباس

139 احادیث · #4020–4158

حدیث 4110 — سنن أبي داود 34:91
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ إِذًا يَمُوتُ مِنَ الْجُوعِ فَأَذِنَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ فَيَسْأَلَ ثُمَّ يَرْجِعَ ‏.‏
اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تب تو وہ بھوک سے مر جائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کر لے جاتا۔
حدیث 4111 — سنن أبي داود 34:92
حسن Isnaadحسن IsnaadIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ‏}‏ الآيَةَ فَنُسِخَ وَاسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ ‏{‏ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ يَرْجُونَ نِكَاحًا ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
حدیث 4112 — سنن أبي داود 34:93
ضعیفضعیفIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْتَجِبَا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا لأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً أَلاَ تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ‏"‏ اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔
حدیث 4113 — سنن أبي داود 34:94
حسنحسنحسنحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَيْمُونِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ فَلاَ يَنْظُرْ إِلَى عَوْرَتِهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے ۔
حدیث 4114 — سنن أبي داود 34:95
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلاَ يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ صَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔
حدیث 4115 — سنن أبي داود 34:96
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ وَهْبٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ ‏"‏ لَيَّةً لاَ لَيَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ لَيَّةً لاَ لَيَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُ لاَ تَعْتَمَّ مِثْلَ الرَّجُلِ لاَ تُكَرِّرْهُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔
حدیث 4116 — سنن أبي داود 34:97
ضعیفضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً فَقَالَ ‏"‏ اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ ‏"‏ وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لاَ يَصِفُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو ۔
حدیث 4117 — سنن أبي داود 34:98
صحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ ذَكَرَ الإِزَارَ فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُرْخِي شِبْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذِرَاعًا لاَ تَزِيدُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت ( کتنا دامن لٹکائے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے ۔
حدیث 4118 — سنن أبي داود 34:99
ضعیفصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ ‏.‏
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدیث 4119 — سنن أبي داود 34:100
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ثُمَّ اسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین ( رضی اللہ عنہن ) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔