ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ «يدنين عليهن من جلابيبهن» وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں ( سورۃ الاحزاب: ۵۹ ) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے «أكنف» کے بجائے «أكثف» کہا ہے۔
ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں «عقيل عن ابن شهاب» کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔
حدیث 4104 — سنن أبي داود 34:85
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدٍ، - قَالَ يَعْقُوبُ ابْنُ دُرَيْكٍ - عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلاَّ هَذَا وَهَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُرْسَلٌ خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ رضى الله عنها .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔
حدیث 4106 — سنن أبي داود 34:87
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ، سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا قَالَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا تَلْقَى قَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلاَمُكِ " .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے ۔
حدیث 4107 — سنن أبي داود 34:88
صحیحصحیحصحیح Muslim (2181)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَا هُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا " . فَحَجَبُوهُ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث ( ہجڑا ) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں ۔
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا ۔