قرآني·Qurani
اردو

اللقطة

20 احادیث · #1701–1720

حدیث 1711 — سنن أبي داود 10:11
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ قَالَ ‏ "‏ فَاجْمَعْهَا ‏"‏ ‏.‏
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو ۔
حدیث 1712 — سنن أبي داود 10:12
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ قَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ ‏"‏ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ خُذْهَا قَطُّ ‏"‏ ‏.‏ كَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ وَيَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَخُذْهَا ‏"‏ ‏.‏
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو ۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: تو تم اسے پکڑے رکھو ۔
حدیث 1713 — سنن أبي داود 10:13
حسنحسنحسنحسن
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا ‏.‏ قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ ‏ "‏ فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑے رکھو، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آ جائے ۔
حدیث 1714 — سنن أبي داود 10:14
حسنحسنصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، حَدَّثَهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ فَسَأَلَتْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هُوَ رِزْقُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ ‏"‏ ‏.‏
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے ، چنانچہ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما نے کھایا، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! دینار ادا کر دو ۔
حدیث 1715 — سنن أبي داود 10:15
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک دینار پڑا ملا، جس سے انہوں نے آٹا خریدا، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا، اور دینار واپس کر دیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ۱؎ کا گوشت خریدا
حدیث 1716 — سنن أبي داود 10:16
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ فَقَالَ مَا يُبْكِيهِمَا قَالَتِ الْجُوعُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتِ اذْهَبْ إِلَى فُلاَنٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَقَالَ الْيَهُودِيُّ أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ ‏.‏ فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتِ اذْهَبْ إِلَى فُلاَنٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلاَلاً أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلُوا فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلاَمٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالإِسْلاَمَ الدِّينَارَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ ‏.‏ فَقَالَ سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَلِيُّ اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَكَ أَرْسِلْ إِلَىَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ ‏.‏
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک ( سے رو رہے ہیں ) ، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے ( میرا دینار ) گر گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمے ہے ، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ( لڑکے ) کو دے دیا۔
حدیث 1717 — سنن أبي داود 10:17
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ بِإِسْنَادِهِ وَرَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانُوا لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکڑی، کوڑے، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کہا ہے۔
حدیث 1718 — سنن أبي داود 10:18
صحیحصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، - أَحْسَبُهُ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ضَالَّةُ الإِبِلِ الْمَكْتُومَةِ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو ( چھپانے والے پر ) اس کا جرمانہ ہو گا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو گا ۔
حدیث 1719 — سنن أبي داود 10:19
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1724)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ عَنْ عَمْرٍو ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا۔ احمد کہتے ہیں: ابن وہب نے کہا: یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے، ابن موہب نے«أخبرني عمرو» کے بجائے «عن عمرو» کہا ہے۔
حدیث 1720 — سنن أبي داود 10:20
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ مَا هَذِهِ قَالَ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لاَ نَدْرِي لِمَنْ هِيَ ‏.‏ فَقَالَ جَرِيرٌ أَخْرِجُوهَا فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلاَّ ضَالٌّ ‏"‏ ‏.‏
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے ۲؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔