حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ - حَدَّثَنِي غَيْلاَنُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَىْءٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهَا دِرْعَكَ " . فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا .
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی زرہ ہی دے دو ، چنانچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ( انعام وغیرہ ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے ۔
بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور ( پیدا ہونے والا ) بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ بچہ جن دے – ( حسن کی روایت میں ) تو تو اسے کوڑے لگا ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ ( جمع کے صیغہ کے ساتھ ) ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر حد جاری کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا ۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان ) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔
حدیث 2135 — سنن أبي داود 12:90
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا وَلْقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمِي لِعَائِشَةَ . فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا قَالَتْ نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ قَالَ { وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا } .
عروہ کہتے ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» ( سورۃ النساء: ۱۲۸ ) نازل کی: اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو ۔