ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
حدیث 383 — سنن ابن ماجه 1:117
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرَمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُمَا كَانَا يَتَوَضَّآنِ جَمِيعًا لِلصَّلاَةِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نماز کے لیے ایک ہی ساتھ وضو کرتے تھے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے «لیلۃالجن» ( جنوں سے ملاقات والی رات ) میں فرمایا: کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ ، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
حدیث 385 — سنن ابن ماجه 1:119
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْجِنِّ " مَعَكَ مَاءٌ " . قَالَ لاَ إِلاَّ نَبِيذًا فِي سَطِيحَةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ صُبَّ عَلَىَّ " . قَالَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ بِهِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لیلۃالجن» میں فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، چھاگل ( مشک ) میں نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے، میرے اوپر ڈالو ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انڈیلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔
حدیث 386 — سنن ابن ماجه 1:120
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، - هُوَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ - أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔