ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کر لیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔
حدیث 388 — سنن ابن ماجه 1:122
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ مِقْسَمٍ - عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِسِنْجَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ مِقْسَمٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
حدیث 389 — سنن ابن ماجه 1:123
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِنَا .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔
حدیث 390 — سنن ابن ماجه 1:124
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِمِيضَأَةٍ فَقَالَ " اسْكُبِي " . فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا .
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ڈالو ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔
حدیث 391 — سنن ابن ماجه 1:125
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الأَزْدِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ صَبَبْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَاءَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ فِي الْوُضُوءِ .
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر و حضر میں کئی بار وضو کرایا ۱؎۔
حدیث 392 — سنن ابن ماجه 1:126
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا كُرْدُوسُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ، حَدَّثَنَا أَبِي رَوْحُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ أُمِّ عَيَّاشٍ، وَكَانَتْ، أَمَةً لِرُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كُنْتُ أُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَا قَائِمَةٌ وَهُوَ قَاعِدٌ .
رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ام عیاش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ۱؎۔
حدیث 394 — سنن ابن ماجه 1:128
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے ۔
حدیث 395 — سنن ابن ماجه 1:129
MunkarMunkarضعیف
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ فَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ وَلاَ عَلَى مَا وَضَعَهَا " .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا ۔
حدیث 396 — سنن ابن ماجه 1:130
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ دَعَا عَلِيٌّ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَنَعَ .
حارث کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگایا اور برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔