قرآني·Qurani
اردو

الطهارة وسننها

400 احادیث · #267–666

حدیث 507 — سنن ابن ماجه 1:241
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَى أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ وہ ( گھر سے ) باہر تشریف لائے۔ ( بات چیت کے دوران ان میں ابی نے ) فرمایا: مجھے مذی آ گئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی ) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ ( وضو کر لینا ) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( خود ) سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
حدیث 508 — سنن ابن ماجه 1:242
صحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ لِزَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ يَا أَبَا الصَّلْتِ هَلْ سَمِعْتَ فِي، هَذَا شَيْئًا فَقَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَدَخَلَ الْخَلاَءَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، أَنْبَأَنَا بُكَيْرٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔
حدیث 509 — سنن ابن ماجه 1:243
صحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ وَكُنَّا نَحْنُ نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے
حدیث 510 — سنن ابن ماجه 1:244
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ‏.‏
بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۱؎۔
حدیث 511 — سنن ابن ماجه 1:245
صحیحصحیح Lighairihiضعیفضعیف
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ، قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَصْنَعُ هَذَا فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔
حدیث 512 — سنن ابن ماجه 1:246
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فِي مَجْلِسِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَفَرِيضَةٌ أَمْ سُنَّةٌ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ قَالَ أَوَ فَطِنْتَ إِلَىَّ وَإِلَى هَذَا مِنِّي فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ لاَ لَوْ تَوَضَّأْتُ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ لَصَلَّيْتُ بِهِ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا مَا لَمْ أُحْدِثْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى كُلِّ طُهْرٍ فَلَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ وَإِنَّمَا رَغِبْتُ فِي الْحَسَنَاتِ ‏.‏
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا، پھر جب نماز کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو ( ہر نماز کے لیے ) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بولے: نہیں، ( ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں ) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں ، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔
حدیث 513 — سنن ابن ماجه 1:247
صحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا ‏"‏ ‏.‏
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں ( حدث کا ) شبہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ۱؎۔
حدیث 514 — سنن ابن ماجه 1:248
صحیحصحیح Lighairihiصحیح Lighairihiصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ التَّشَبُّهِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے نماز نہ توڑے ۱؎۔
حدیث 515 — سنن ابن ماجه 1:249
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر آواز یا بو کے وضو واجب نہیں ہے ۔
حدیث 516 — سنن ابن ماجه 1:250
صحیحصحیح Lighairihiصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَشَمُّ ثَوْبَهُ فَقُلْتُ مِمَّ ذَلِكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ وُضُوءَ إِلاَّ مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔