قرآني·Qurani
اردو

الطهارة وسننها

400 احادیث · #267–666

حدیث 517 — سنن ابن ماجه 1:251
صحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلاَةِ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحراء اور میدان میں واقع ان گڈھوں کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جن سے مویشی اور درندے پانی پیتے رہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ( دو بڑے مٹکے کے برابر ) ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۱؎۔
حدیث 518 — سنن ابن ماجه 1:252
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا لَمْ يُنَجِّسْهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُو سَلَمَةَ وَابْنُ عَائِشَةَ الْقُرَشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو یا تین قلہ ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
حدیث 519 — سنن ابن ماجه 1:253
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلاَبُ وَالْحُمُرُ وَعَنِ الطَّهَارَةِ مِنْهَا فَقَالَ ‏ "‏ لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں، اور ان پر درندے، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا، وہ ان کا حصہ ہے، اور جو پانی حوض ( تالاب ) میں بچا، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے ۔
حدیث 520 — سنن ابن ماجه 1:254
صحیحصحیحصحیح Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ ‏.‏ قَالَ فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَاسْتَقَيْنَا وَأَرْوَيْنَا وَحَمَلْنَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔
حدیث 521 — سنن ابن ماجه 1:255
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ إِلاَّ مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ وَطَعْمِهِ وَلَوْنِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے ۱؎۔
حدیث 522 — سنن ابن ماجه 1:256
حسن Sahihحسن Sahihصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الأُنْثَى ‏"‏ ‏.‏
لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے ( تاکہ میں اسے دھو دوں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ۱؎۔
حدیث 523 — سنن ابن ماجه 1:257
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر صرف پانی بہا لیا، اور اسے دھویا نہیں
حدیث 524 — سنن ابن ماجه 1:258
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ ‏.‏
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے ایک شیرخوار بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
حدیث 525 — سنن ابن ماجه 1:259
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ ‏"‏ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ قَالَ لأَنَّ بَوْلَ الْغُلاَمِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي فَهِمْتَ أَوْ قَالَ لَقِنْتَ قَالَ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلَعِهِ الْقَصِيرِ فَصَارَ بَوْلُ الْغُلاَمِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ ‏.‏ قَالَ قَالَ لِي فَهِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ لِي نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیرخوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۔
حدیث 526 — سنن ابن ماجه 1:260
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ، قَالَ كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ رُشَّهُ فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلاَمِ ‏"‏ ‏.‏
ابوسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔