حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " بَوْلُ الْغُلاَمِ يُنْضَحُ وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ " .
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۱؎۔
حدیث 528 — سنن ابن ماجه 1:262
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تُزْرِمُوهُ " . ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔
حدیث 529 — سنن ابن ماجه 1:263
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَالِسٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلاَ تَغْفِرْ لأَحَدٍ مَعَنَا . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ " لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا " . ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ . فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فَقَامَ إِلَىَّ بِأَبِي وَأُمِّي . فَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَسُبَّ . فَقَالَ " إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لاَ يُبَالُ فِيهِ وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَلِلصَّلاَةِ " . ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنَ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
حدیث 530 — سنن ابن ماجه 1:264
صحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهُذَلِيِّ، - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ - أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا . فَقَالَ " لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا وَيْحَكَ - أَوْ وَيْلَكَ - " . قَالَ فَشَجَ يَبُولُ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَهْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " دَعُوهُ " . ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ .
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ۱؎۔
حدیث 531 — سنن ابن ماجه 1:265
صحیحصحیحصحیح Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ، لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ " .
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے
حدیث 532 — سنن ابن ماجه 1:266
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْيَشْكُرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ الْمَسْجِدَ فَنَطَأُ الطَّرِيقَ النَّجِسَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الأَرْضُ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑ جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین کا دوسرا ( پاک ) حصہ اسے پاک کر دیتا ہے ۔
حدیث 533 — سنن ابن ماجه 1:267
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً . قَالَ " فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَهَذِهِ بِهَذِهِ " .
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔
حدیث 534 — سنن ابن ماجه 1:268
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُؤْمِنُ لاَ يَنْجُسُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ ، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدیث 535 — سنن ابن ماجه 1:269
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَقِيَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَحِدْتُ عَنْهُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ " مَا لَكَ " . قُلْتُ كُنْتُ جُنُبًا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ الْمُسْلِمَ لاَ يَنْجُسُ " .
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہو گئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدیث 536 — سنن ابن ماجه 1:270
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ، يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ قَالَ سُلَيْمَانُ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغُسْلِ فِيهِ .
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔