قرآني·Qurani
اردو

الطهارة وسننها

400 احادیث · #267–666

حدیث 537 — سنن ابن ماجه 1:271
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِيَدِي ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعض اوقات میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ دیا کرتی تھی۔
حدیث 538 — سنن ابن ماجه 1:272
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَى أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الاِحْتِلاَمِ فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ أَفْسَدْتَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِكَ رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِإِصْبَعِي ‏.‏
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔
حدیث 539 — سنن ابن ماجه 1:273
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَجِدُهُ فِي ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَحُتُّهُ عَنْهُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگی دیکھتی تو اسے کھرچ دیتی تھی ۱؎۔
حدیث 540 — سنن ابن ماجه 1:274
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ قَالَتْ نَعَمْ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ أَذًى ‏.‏
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔
حدیث 541 — سنن ابن ماجه 1:275
حسنحسن Lighairihiضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ وَفِيهِ ‏"‏ ‏.‏ أَىْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ ‏.‏
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو ۔
حدیث 542 — سنن ابن ماجه 1:276
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ الزِّمِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يَأْتِي فِيهِ أَهْلَهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ إِلاَّ أَنْ يَرَى فِيهِ شَيْئًا فَيَغْسِلَهُ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس میں بیوی سے صحبت کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر یہ کہ اس میں کسی گندگی کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے ۔
حدیث 543 — سنن ابن ماجه 1:277
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَفْعَلُهُ ‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ كَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لأَنَّ إِسْلاَمَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ ‏.‏
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، ( کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا ) ۱؎۔
حدیث 544 — سنن ابن ماجه 1:278
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ، عُيَيْنَةَ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
حدیث 545 — سنن ابن ماجه 1:279
صحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔
حدیث 546 — سنن ابن ماجه 1:280
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک ( سعد بن مالک ابن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔