قرآني·Qurani
اردو

الحج

260 احادیث · #1513–1772

حدیث 1723 — صحيح البخاري 25:201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ قَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا کہ شام ہونے کے بعد میں نے رمی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ سائل نے کہا کہ قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔
حدیث 1724 — صحيح البخاري 25:202
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَحَجَجْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِمَا أَهْلَلْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ، فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ، حَتَّى خِلاَفَةِ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَذَكَرْتُهُ لَهُ‏.‏ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ ( جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔ چنانچہ ( مکہ پہنچ کر ) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہئے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔
حدیث 1725 — صحيح البخاري 25:203
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں ( اپنے ساتھ ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔
حدیث 1726 — صحيح البخاري 25:204
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔
حدیث 1727 — صحيح البخاري 25:205
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَالْمُقَصِّرِينَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ‏"‏ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ‏.‏ قَالَ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ ‏"‏ وَالْمُقَصِّرِينَ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی دعا کی اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں پر بھی، لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ نے سر منڈوانے والوں پر رحم کیا ایک یا دو مرتبہ، انہوں نے بیان کیا کہ عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کتروانے والوں پر بھی۔
حدیث 1728 — صحيح البخاري 25:206
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِينَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِينَ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلِلْمُقَصِّرِينَ ‏"‏‏.‏
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی ( یہی دعا فرمائیے ) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی! تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔
حدیث 1729 — صحيح البخاري 25:207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ حَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اصحاب نے سر منڈوایا تھا لیکن بعض نے کتروایا بھی تھا۔
حدیث 1730 — صحيح البخاري 25:208
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِشْقَصٍ‏.‏
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے حسن بن مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے۔
حدیث 1731 — صحيح البخاري 25:209
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحِلُّوا، وَيَحْلِقُوا أَوْ يُقَصِّرُوا‏.‏
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں کریب نے خبر دی، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیں پھر سر منڈوا لیں یا بال کتروا لیں۔
حدیث 1732 — صحيح البخاري 25:210
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، ثُمَّ يَقِيلُ ثُمَّ يَأْتِي مِنًى ـ يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ ـ‏.‏ وَرَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ‏.‏
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک طواف الزیارۃ کیا پھر سویرے سے منیٰ کو آئے، ان کی مراد دسویں تاریخ سے تھی، عبدالرزاق نے اس حدیث کا رفع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) بھی کیا ہے۔ انہیں عبیداللہ نے خبر دی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔