حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْنَا يَوْمَ النَّحْرِ، فَحَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا حَائِضٌ. قَالَ " حَابِسَتُنَا هِيَ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ. قَالَ " اخْرُجُوا ". وَيُذْكَرُ عَنِ الْقَاسِمِ وَعُرْوَةَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَفَاضَتْ صَفِيَّةُ يَوْمَ النَّحْرِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ حائضہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا۔
حدیث 1734 — صحيح البخاري 25:212
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْىِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ " لاَ حَرَجَ ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے، سر منڈانے، رمی جمار کرنے اور ان سے آگے پیچھے کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔
حدیث 1735 — صحيح البخاري 25:213
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى، فَيَقُولُ " لاَ حَرَجَ ". فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ " اذْبَحْ، وَلاَ حَرَجَ ". وَقَالَ رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ. فَقَالَ " لاَ حَرَجَ ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم نحر میں منیٰ میں مسائل پوچھے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے کہ کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے پوچھا تھا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے تو آپ نے اس کے جواب میں بھی یہی فرمایا کہ جاؤ قربانی کر لو کوئی حرج نہیں اور اس نے یہ بھی پوچھا کہ میں نے کنکریاں شام ہونے کے بعد ہی مار لی ہیں ، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عیسیٰ بن طلحہ نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر ( اپنی سواری ) پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل معلوم کئے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو معلوم نہ تھا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قربانی کر لو کوئی حرج نہیں، دوسرا شخص آیا اور بولا: یا رسول اللہ! مجھے خیال نہ رہا اور رمی جمار سے پہلے ہی میں نے قربانی کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے آگے پیچھے کرنے کے متعلق سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
حدیث 1737 — صحيح البخاري 25:215
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنه ـ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا. ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ". لَهُنَّ كُلِّهِنَّ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ.
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور مجھے اس میں شک ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کر لو۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔
حدیث 1738 — صحيح البخاري 25:216
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاقَتِهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، ان سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سواری پر سوا رہو کر ٹھہرے رہے پھر پوری حدیث بیان کی۔ اس کی متابعت معمر نے زہری سے روایت کر کے کی ہے۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) پہنچا دیا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے، لہٰذا حاضر ( اور جاننے والے ) غائب ( اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام ) پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا۔
حدیث 1740 — صحيح البخاري 25:218
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ. تَابَعَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن زید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ میدان عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ میں نے خود سنا تھا۔ اس کی متابعت ابن عیینہ نے عمرو سے کی ہے۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہے یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں۔ ہم بولے ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ ( پیغام کو ) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی ( ناحق ) گردنیں مارنے لگو۔
حدیث 1742 — صحيح البخاري 25:220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى " أَتَدْرُونَ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ " فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " بَلَدٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ " شَهْرٌ حَرَامٌ ـ قَالَ ـ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ". وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ وَقَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا، وَقَالَ " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ "، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ". وَوَدَّعَ النَّاسَ. فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر ( ناحق ) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر» ) حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ ( آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا ) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔