ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ، ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدیث 7069 — صحيح البخاري 92:20
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ـ يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ ـ لِكَىْ يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا، عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن عقیق نے، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
حدیث 7070 — صحيح البخاري 92:21
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“
حدیث 7071 — صحيح البخاري 92:22
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن رافع) نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے۔“
حدیث 7073 — صحيح البخاري 92:24
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو يَا أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مَرَّ رَجُلٌ بِسِهَامٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا ". قَالَ نَعَمْ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا ابو محمد! تم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک صاحب تیر لے کر مسجد میں سے گزرے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیر کی نوک کا خیال رکھو۔ عمرو نے کہا جی ہاں میں نے سنا ہے۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب مسجد میں تیر لے کر گزرے جن کے پھل باہر کو نکلے ہوئے تھے تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی نوک کا خیال رکھیں کہ وہ کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دیں۔
حدیث 7075 — صحيح البخاري 92:26
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا ـ أَوْ قَالَ فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ ـ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا شَىْءٌ ".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد میں یا ہمارے بازار میں گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہئیے کہ اس کی نوک کا خیال رکھے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے انہیں تھامے رہے۔ کہیں کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
حدیث 7076 — صحيح البخاري 92:27
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“
حدیث 7077 — صحيح البخاري 92:28
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي وَاقِدٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو واقد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔