ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا اور ایک دوسرے شخص ( حمید بن عبدالرحمٰن ) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا ”تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ بیان کیا کہ ( اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے ) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے پھر پوچھا ”یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ البلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟“ ہم نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! گواہ رہنا۔ پس میرا یہ پیغام موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے پہنچانے والے اس پیغام کو اس تک پہنچائیں گے جو اس کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو گا۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔“ پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا زرا ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ ( تین جاریہ کے لشکر والے ) میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا۔
حدیث 7079 — صحيح البخاري 92:30
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی بن مدرک نے بیان کیا، کہا میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے ان کے دادا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ لوگوں کو خاموش کر دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا ان میں چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا ان میں دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، جو دور سے ان کی طرف جھانک کر بھی دیکھے گا تو وہ ان کو بھی سمیٹ لیں گے۔ اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے۔“
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ اگر کوئی ان کی طرف دور سے بھی جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے ایسے وقت جو کوئی اس سے کوئی پناہ کی جگہ پا لے اسے اس کی پناہ لے لینی چاہئیے۔“
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایک شخص نے جس کا نام نہیں بتایا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ باہمی فسادات کے دنوں میں میں اپنے ہتھیار لگا کر نکلا تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی ( جنگ جمل و صفین میں ) مدد کرنی چاہتا ہوں، انہوں نے کہا لوٹ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلہ پر آ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا یہ تو قاتل تھا، مقتول نے کیا کیا ( کہ وہ بھی ناری ہو گیا ) ؟ فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کئے ہوئے تھا۔ حماد بن زید نے کہا کہ پھر میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے ذکر کی، میرا مقصد تھا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کریں، ان دونوں نے کہا کہ اس حدیث کی روایت حسن بصری نے احنف بن قیس سے اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کی۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے یہی حدیث بیان کی اور مؤمل بن ہشام نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب، یونس، ہشام اور معلی بن زیاد نے امام حسن بصری سے بیان کیا، ان سے احنف بن قیس اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت معمر نے بھی ایوب سے کی ہے اور اس کی روایت بکار بن عبدالعزیز نے اپنے باپ سے کی اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور سفیان ثوری نے بھی اس حدیث کو منصور بن معتمر سے روایت کیا، پھر یہ روایت مرفوعہ نہیں ہے۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جابر نے بیان کیا، ان سے بسر بن عبیداللہ الخصرمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوادریس خولانی سے سنا، انہوں نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہو گی؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان ( عربی ) بولیں گے۔ میں نے پوچھا: پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ نے بیان کیا کہ ہم سے ابوالاسود نے بیان کیا، یا لیث نے ابوالاسود سے بیان کیا کہ اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں شام والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ) اور میرا نام اس میں لکھ دیا گیا۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے مجھے شرکت سے سختی کے ساتھ منع کیا۔ پھر کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ کچھ مسلمان جو مشرکین کے ساتھ رہتے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ( غزوات ) میں مشرکین کی جماعت کی زیادتی کا باعث بنتے۔ پھر کوئی تیر آتا اور ان میں سے کسی کو لگ جاتا اور قتل کر دیتا یا انہیں کوئی تلوار سے قتل کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم» ”بلا شک وہ لوگ جن کو فرشتے فوت کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔“
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا، ان سے حذیفہ نے بیان کیا کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احادیث فرمائی تھیں جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی دوسری کا انتظار ہے۔ ہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں نازل ہوئی تھی پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر سنت سے سیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایک شخص ایک نیند سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال دی جائے گی اور اس کا نشان ایک دھبے جتنا باقی رہ جائے گا، پھر وہ ایک نیند سوئے گا اور پھر امانت نکالی جائے گی تو اس کے دل میں آبلے کی طرح اس کا نشان باقی رہ جائے گا، جیسے تم نے کوئی چنگاری اپنے پاؤں پر گرا لی ہو اور اس کی وجہ سے آبلہ پڑ جائے، تم اس میں سوجن دیکھو گے لیکن اندر کچھ نہیں ہو گا اور لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا۔ پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا دلاور آدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا اور مجھ پر ایک زمانہ گزر گیا اور میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس کے ساتھ میں لین دین کرتا ہوں اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے میرے حق کے ادا کرنے پر مجبور کرتا اور اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کے حاکم لوگ اس کو دباتے ایمانداری پر مجبور کرتے۔ لیکن آج کل تو میں صرف فلاں فلاں لوگوں سے ہی لین دین کرتا ہوں۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے؟ کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ اور یزید بن ابی عبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے۔ وہ برابر وہیں پر رہے، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے۔