قرآني·Qurani
اردو

اللباس

187 احادیث · #5783–5969

حدیث 5923 — صحيح البخاري 77:138
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ، حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ‏.‏
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔
حدیث 5924 — صحيح البخاري 77:139
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلاً، اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى فَقَالَ ‏ "‏ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الأَبْصَارِ ‏"‏‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ارے اذن ( اجازت ) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر ( کسی کے ) ستر پر نہ پڑے۔
حدیث 5925 — صحيح البخاري 77:140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا حَائِضٌ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حالت حیض کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھا کرتی تھی۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔
حدیث 5926 — صحيح البخاري 77:141
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَوُضُوئِهِ‏.‏
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔
حدیث 5927 — صحيح البخاري 77:142
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏‏.‏
مجھ سے عبداللہ بن محمد ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن المسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ دار کے منہ کے خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔“
حدیث 5928 — صحيح البخاري 77:143
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مل سکتی تھی، وہ لگاتی۔
حدیث 5929 — صحيح البخاري 77:144
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ، وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لاَ يَرُدُّ الطِّيبَ‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عروہ بن ثابت انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ( جب ان کو ) خوشبو ( ہدیہ کی جاتی تو ) آپ وہ واپس نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔
حدیث 5930 — صحيح البخاري 77:145
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ‏.‏
ہم سے عثمان بن ہشیم نے بیان کیا یا محمد بن یحییٰ دیلی نے، انہیں عثمان بن ہشیم نے (امام بخاری رحمہ اللہ کو شک ہے) ان سے ابن جریج نے انہوں نے کہا مجھ کو عمر بن عبداللہ بن عروہ بن شہر نے خبر دی، انہوں نے عروہ اور قاسم دونوں سے سنا، وہ دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ ( ایک قسم کی مرکب ) خوشبو لگائی تھی۔
حدیث 5931 — صحيح البخاري 77:146
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى، مَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ‏{‏وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ‏}‏‏.‏
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه‏» ہے۔
حدیث 5932 — صحيح البخاري 77:147
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهْوَ يَقُولُ ـ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ بِيَدِ حَرَسِيٍّ ـ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔