قرآني·Qurani
اردو

اللباس

187 احادیث · #5783–5969

حدیث 5933 — صحيح البخاري 77:148
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ‏"‏‏.‏
اور ابن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے۔“
حدیث 5934 — صحيح البخاري 77:149
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ جَارِيَةً، مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ، وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهَا فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے حسن بن مسلم بن نیاق سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگا دیں۔ اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے صفیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
حدیث 5935 — صحيح البخاري 77:150
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي أَنْكَحْتُ ابْنَتِي، ثُمَّ أَصَابَهَا شَكْوَى فَتَمَرَّقَ رَأْسُهَا، وَزَوْجُهَا يَسْتَحِثُّنِي بِهَا أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا فَسَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ‏.‏
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا، ان پر لعنت بھیجی۔
حدیث 5936 — صحيح البخاري 77:151
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کی بیوی فاطمہ نے، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔
حدیث 5937 — صحيح البخاري 77:152
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَافِعٌ الْوَشْمُ فِي اللِّثَةِ‏.‏
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں پر، جڑوانے والیوں پر، گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے۔“ نافع نے کہا کہ گودنا کبھی مسوڑے پر بھی گودا جاتا ہے۔
حدیث 5938 — صحيح البخاري 77:153
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا، فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ، إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمَّاهُ الزُّورَ‏.‏ يَعْنِي الْوَاصِلَةَ فِي الشَّعَرِ‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «زور‏.‏» یعنی فریبی فرمایا یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے۔
حدیث 5939 — صحيح البخاري 77:154
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ لَعَنَ عَبْدُ اللَّهِ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ يَعْقُوبَ مَا هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَمَا لِيَ لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ، وَفِي كِتَابِ اللَّهِ‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُهُ‏.‏ قَالَ وَاللَّهِ لَئِنْ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ ‏{‏وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‏}‏‏.‏
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، ان سب پر لعنت بھیجی تو ام یعقوب نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور کتاب اللہ میں اس پر لعنت موجود ہے۔ ام یعقوب نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے پورا قرآن مجید پڑھ ڈالا اور کہیں بھی ایسی کوئی آیت مجھے نہیں ملی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم کو یہ آیت معلوم نہیں «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا‏» یعنی ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے بھی تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“
حدیث 5940 — صحيح البخاري 77:155
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ‏.‏
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، ان سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔
حدیث 5941 — صحيح البخاري 77:156
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ، تَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، قَالَتْ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَامَّرَقَ شَعَرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا أَفَأَصِلُ فِيهِ فَقَالَ ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ ‏"‏‏.‏
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدیث 5942 — صحيح البخاري 77:157
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ، وَالْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
مجھ سے یونس بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گودنے والی، گدوانے والی، مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی“ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر لعنت بھیجی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔