قرآني·Qurani
اردو

النكاح

188 احادیث · #5063–5250

حدیث 5153 — صحيح البخاري 67:88
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه أَنَّ عَبْدَ، الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ ‏"‏ كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان کو مالک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس بن مالک نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصارکی ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسے مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔
حدیث 5154 — صحيح البخاري 67:89
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِزَيْنَبَ فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا فَخَرَجَ ـ كَمَا يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ ـ فَأَتَى حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَدْعُو وَيَدْعُونَ ‏{‏لَهُ‏}‏ ثُمَّ انْصَرَفَ فَرَأَى رَجُلَيْنِ فَرَجَعَ لاَ أَدْرِي آخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِخُرُوجِهِمَا‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ ( کھانے سے فراغت کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لیے دعا کی۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا ( کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے ) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لے گئے۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں۔
حدیث 5155 — صحيح البخاري 67:90
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
حدیث 5156 — صحيح البخاري 67:91
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ‏.‏
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ ( ام رومان بنت عامر ) میرے پاس آئیں اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں۔ انہوں نے ( مجھ کو اور میری ماں کو ) یوں دعا دی «بارك وبارك الله» ”اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو۔“
حدیث 5157 — صحيح البخاري 67:92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لاَ يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهْوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمْ يَبْنِ بِهَا ‏"‏‏.‏
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، ان سے معمر بن راشد نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی ( یوشع علیہ السلام یا داؤد علیہ السلام ) نے غزوہ کیا اور ( غزوہ سے پہلے ) اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی صحبت نہ کی ہو۔
حدیث 5158 — صحيح البخاري 67:93
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَائِشَةَ وَهْىَ ابْنَةُ سِتٍّ وَبَنَى بِهَا وَهْىَ ابْنَةُ تِسْعٍ وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا‏.‏
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عروہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال کی تھی اور جب ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو سال تک رہیں۔
حدیث 5159 — صحيح البخاري 67:94
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلاَثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهْىَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهْىَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ‏.‏
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( راستہ میں ) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ( کہا کہ ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے ( کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔)
حدیث 5160 — صحيح البخاري 67:95
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضُحًى‏.‏
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔
حدیث 5161 — صحيح البخاري 67:96
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلِ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهَا سَتَكُونُ ‏"‏‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( جب انہوں نے شادی کی ) فرمایا تم نے جھالر دار چادریں بھی لی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس جھالر دار چادریں کہاں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلد ہی میسر ہو جائیں گی۔
حدیث 5162 — صحيح البخاري 67:97
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ ‏"‏‏.‏
ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہارے پاس لہو ( دف بجانے والا ) نہیں تھا، انصار کو دف پسند ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔