قرآني·Qurani
اردو

النكاح

188 احادیث · #5063–5250

حدیث 5163 — صحيح البخاري 67:98
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ـ وَاسْمُهُ الْجَعْدُ ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَّ بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا افْعَلِي‏.‏ فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي ‏"‏ ضَعْهَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَالَ ‏"‏ ادْعُ لِي رِجَالاً ـ سَمَّاهُمْ ـ وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ، وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُ لَهُمُ ‏"‏ اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا، فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ، وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ الْحُجُرَاتِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا‏.‏ فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ، وَهْوَ يَقُولُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ‏}‏‏.‏ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ‏.‏
اور ابراہیم بن طہمان نے ابوعثمان جعد بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک سے، ابوعثمان کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے سے بنی رفاعہ کی مسجد میں ( جو بصرہ میں ہے ) گزرے۔ میں نے ان سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے ( وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں ) ۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے۔ آپ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا تو ام سلیم ( میری ماں ) مجھ سے کہنے لگیں اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا، میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا آپ نے ان کا نام لیا اور جو بھی کوئی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا۔ لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا ( برکت کی دعا فرمائی ) ۔ پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے اللہ کا نام لو اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے۔ ( رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے ) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دئیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا ( اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں پر گئے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا اب وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور ( زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ) آئے۔ میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا۔ آپ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ”مسلمانو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے اس وقت جاؤ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر آ جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو، ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی ( کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ ) اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔“ ابوعثمان ( جعدی بن دینار ) کہتے تھے کہ انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔
حدیث 5164 — صحيح البخاري 67:99
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلاَّ جَعَلَ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجُعِلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةٌ‏.‏
مجھ سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے ( اپنی بہن ) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃ لے لیا تھا، راستے میں وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہو گیا ( اور پانی نہیں تھا ) اس لیے انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے تو آپ کے سامنے یہ شکوہ کیا۔ اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے عائشہ! اللہ تمہیں بہتر بدلہ دے۔ واللہ! جب بھی آپ پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے تم سے اسے دور کیا اور مزید برآں یہ کہ مسلمانوں کے لیے برکت اور بھلائی ہوئی۔
حدیث 5165 — صحيح البخاري 67:100
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأْتِي أَهْلَهُ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ، أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ‏"‏‏.‏
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم جنبني الشيطان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وجنب الشيطان ما رزقتنا» یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو ( اولاد ) ہمیں تو عطا کرے۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
حدیث 5166 — صحيح البخاري 67:101
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوَاظِبْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَىْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمَشَيْتُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ‏.‏
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو ان کی عمر دس برس کی تھی۔ میری ماں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مجھ کو تاکید کرتی رہتی تھیں۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی اور جب آپ کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ پردہ کے متعلق میں سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے ہوں کہ کب نازل ہوا۔ سب سے پہلے یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لائے تھے، آپ ان کے دولہا بنے تھے۔ پھر آپ نے لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ( کھانے کے بعد بھی ) دیر تک وہیں بیٹھے ( باتیں کرتے رہے ) آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گیا تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ رہا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس دروازے پر آئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ اس لیے آپ واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ آیا۔ جب آپ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک نہیں گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آ گیا جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے اور آپ کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ پھر واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اب وہ لوگ واقعی جا چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حدیث 5167 — صحيح البخاري 67:102
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ‏"‏ كَمْ أَصْدَقْتَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ وَعَنْ حُمَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ نَزَلَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الأَنْصَارِ فَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي وَأَنْزِلُ لَكَ عَنْ إِحْدَى امْرَأَتَىَّ‏.‏ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ ��َمَالِكَ‏.‏ فَخَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَ وَاشْتَرَى فَأَصَابَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَتَزَوَّجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
حدیث 5168 — صحيح البخاري 67:103
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى شَىْءٍ مِنْ نِسَائِهِ، مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ أَوْلَمَ بِشَاةٍ‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا جیسا ولیمہ اپنی بیویوں میں سے کسی کا نہیں کیا، ان کا ولیمہ آپ نے ایک بکری کا کیا تھا۔
حدیث 5169 — صحيح البخاري 67:104
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے شعیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔
حدیث 5170 — صحيح البخاري 67:105
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ بَنَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالاً إِلَى الطَّعَامِ‏.‏
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون ( زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کو نکاح کر کے لائے تو مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو ولیمہ کھانے کے لیے بلایا۔
حدیث 5171 — صحيح البخاري 67:106
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسٍ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ثابت بنانی نے، کہ انس رضی اللہ عنہ کے سامنے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جیسا اپنی بیویوں میں سے کسی کے لیے ولیمہ کرتے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ولیمہ ایک بکری سے کیا تھا۔
حدیث 5172 — صحيح البخاري 67:107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ‏.‏
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا ولیمہ دو مد ( تقریباً پونے دو سیر ) جَو سے کیا تھا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔