قرآني·Qurani
اردو

الدعوات

235.0999999999999 احادیث · #3370–3604.1

حدیث 3390 — جامع الترمذي 48:21
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ أُرَاهُ قَالَ فِيهَا لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا ‏"‏ أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ”ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے“، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسى» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملك لله والحمد لله» ”صبح کی ہم نے، اور صبح کی ساری بادشاہی نے، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
حدیث 3391 — جامع الترمذي 48:22
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ‏.‏ وَإِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو سکھاتے ہوئے کہتے تھے کہ جب تمہاری صبح ہو تو کہو «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير» ”اے اللہ! تیرے حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، تیرے حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے“، اور آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا جب تم میں سے کسی کی شام ہو تو اسے چاہیئے کہ کہے «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» ”ہم نے تیرے ہی حکم سے شام کی اور تیرے ہی حکم سے صبح کی تھی، تیرے ہی حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرا جب حکم ہو گا، ہم مر جائیں گے اور تیری ہی طرف ہمیں اٹھ کر جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 3392 — جامع الترمذي 48:23
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الثَّقَفِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قَالَ ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ قَالَ قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جسے میں صبح و شام میں پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: ”کہہ لیا کرو: «اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه» ”اے اللہ! غائب و حاضر، موجود اور غیر موجود کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”یہ دعا صبح و شام اور جب اپنی خواب گاہ میں سونے چلو پڑھ لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3393 — جامع الترمذي 48:24
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏ "‏ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى سَيِّدِ الاِسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوءُ إِلَيْكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَىَّ وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ‏.‏ لاَ يَقُولُهَا أَحَدُكُمْ حِينَ يُمْسِي فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَلاَ يَقُولُهَا حِينَ يُصْبِحُ فَيَأْتِي عَلَيْهِ قَدَرٌ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ أَبْزَى وَبُرَيْدَةَ رضى الله عنهم ‏.‏ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضى الله عنه ‏.‏
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «سيد الاستغفار» ( طلب مغفرت کی دعاؤں میں سب سے اہم دعا ) نہ بتاؤں؟ ( وہ یہ ہے ) : «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت وأبوء لك بنعمتك علي وأعترف بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت بھر تجھ سے کیے ہوئے وعدہ و اقرار پر قائم ہوں، اور میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے کئے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں تو نے مجھے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا اقرار اور اعتراف کرتا ہوں، میں اپنے گناہوں کو تسلیم کرتا ہوں تو میرے گناہوں کو معاف کر دے، کیونکہ گناہ تو بس تو ہی معاف کر سکتا ہے“، شداد کہتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ دعا تم میں سے کوئی بھی شام کو پڑھتا ہے اور صبح ہونے سے پہلے ہی اس پر «قدر» ( موت ) آ جاتی ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے، اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے «قدر» ( موت ) آ جائے مگر یہ کہ جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے شداد بن اوس رضی الله عنہ کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن مسعود، ابن ابزی اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 3394 — جامع الترمذي 48:25
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ أَلاَ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهَا إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا تَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْبَرَاءُ فَقُلْتُ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏.‏ قَالَ فَطَعَنَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْبَرَاءِ ‏.‏ وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْبَرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ عَلَى وُضُوءٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رضى الله عنه ‏.‏
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جانے لگو تو کہہ لیا کرو، اگر تم اسی رات میں مر جاؤ تو فطرت پر ( یعنی اسلام پر ) مرو گے اور اگر تم نے صبح کی تو صبح کی، خیر ( اجر و ثواب ) حاصل کر کے، تم کہو: «اللهم إني أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے حوالے کر دی، میں اپنا رخ تیری طرف کر کے پوری طرح متوجہ ہو گیا، میں نے اپنا معاملہ تیری سپردگی میں دے دیا، تجھ سے امیدیں وابستہ کر کے اور تیرا خوف دل میں بسا کر، میری پیٹھ تیرے حوالے، تیرے سوا نہ میرے لیے کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی تجھ سے بچ کر تیرے سوا کوئی ٹھکانا میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ براء کہتے ہیں: میں نے «نبيك الذي أرسلت» کی جگہ «برسولك الذي أرسلت» کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے کونچا، پھر فرمایا: «ونبيك الذي أرسلت» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس حدیث کو منصور بن معتمر نے سعد بن عبیدہ سے اور سعد نے براء کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں اتنا فرق ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور تم وضو سے ہو تو یہ دعا پڑھا کرو، ۴- اس باب میں رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 3395 — جامع الترمذي 48:26
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ابْنِ أَخِي، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اضْطَجَعَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ أُومِنُ بِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ ‏.‏ فَإِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رضى الله عنه ‏.‏
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی داہنی کروٹ لیٹے پھر پڑھے: «اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك أومن بكتابك وبرسولك» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، میں نے اپنا منہ ( اوروں کی طرف سے پھیر کر ) تیری طرف کر دیا، میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، تجھ سے بچ کر تیرے سوا اور کوئی جائے پناہ و جائے نجات نہیں ہے، میں تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں“، پھر اسی رات میں مر جائے، تو وہ جنت میں جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدیث 3396 — جامع الترمذي 48:27
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو ( مخلوق کے شر سے ) اور ہم کو ( رہنے سہنے کے لیے ) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث 3397 — جامع الترمذي 48:28
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَصَّافِيِّ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں“، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بےشمار ) ہوں، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے عبیداللہ بن ولید وصافی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدیث 3398 — جامع الترمذي 48:29
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تجمع أو تبعث عبادك» ”اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3399 — جامع الترمذي 48:30
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، - هُوَ السَّلُولِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَسَّدُ يَمِينَهُ عِنْدَ الْمَنَامِ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ لَمْ يَذْكُرْ بَيْنَهُمَا أَحَدًا وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَرَجُلٍ آخَرَ عَنِ الْبَرَاءِ ‏.‏ وَرَوَى إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْبَرَاءِ وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناتے تھے، پھر پڑھتے تھے: «رب قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ( امام ) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا، ۳- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے، ۴- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح روایت کی۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔