ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر و فساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن ( نیچے و پوشیدہ ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۱؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدیث 3403 — جامع الترمذي 48:34
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، رضى الله عنه أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي قَالَ " اقْرَأْْ : ( قلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ " . قَالَ شُعْبَةُ أَحْيَانًا يَقُولُ مَرَّةً وَأَحْيَانًا لاَ يَقُولُهَا . حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَهَذَا أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَهَذَا أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ . وَقَدِ اضْطَرَبَ أَصْحَابُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ قَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ أَخُو فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ .
فروہ بن نوفل رضی الله عنہ ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ ( نجات ) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: ( ہمارے استاذ ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔
حدیث 3404 — جامع الترمذي 48:35
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ بِتَنْزِيلَ السَّجْدَةِ وَبِتَبَارَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . وَرَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ جَابِرٍ إِنَّمَا سَمِعْتُهُ مِنْ صَفْوَانَ أَوِ ابْنِ صَفْوَانَ . وَرَوَى شَبَابَةُ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ حَدِيثِ لَيْثٍ .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سونے سے پہلے آپ سورۃ «سجدہ» اور سورۃ «تبارک الذی» ( یعنی سورۃ الملک ) پڑھ نہ لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ( ثوری ) اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث لیث سے، لیث نے ابوالزبیر سے، ابوالزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۲- زہیر نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث جابر سے ( خود ) سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث جابر سے نہیں سنی ہے، میں نے یہ حدیث صفوان یا ابن صفوان سے سنی ہے، ۳- شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے، مغیرہ نے ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر سے لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
حدیث 3405 — جامع الترمذي 48:36
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الزُّمَرَ وَبَنِي إِسْرَائِيلَ . أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ أَبُو لُبَابَةَ هَذَا اسْمُهُ مَرْوَانُ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ وَسَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ سَمِعَ مِنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الزمر اور سورۃ بنی اسرائیل جب تک پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی ہے کہ ابولبابہ کا نام مروان ہے، اور یہ عبدالرحمٰن بن زیاد کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے اور ان ( ابولبابہ ) سے حماد بن زید نے سنا ہے۔
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات» ۱؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۲؎، آپ فرماتے تھے: ”ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
بنی حنظلہ کے ایک شخص نے کہا کہ میں شداد بن اوس رضی الله عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جسے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے تھے، آپ نے ہمیں سکھایا کہ ہم کہیں: «اللهم إني أسألك الثبات في الأمر وأسألك عزيمة الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك لسانا صادقا وقلبا سليما وأعوذ بك من شر ما تعلم وأسألك من خير ما تعلم وأستغفرك مما تعلم إنك أنت علام الغيوب» ”اے اللہ! میں تجھ سے کام میں ثبات ( جماؤ ٹھہراؤ ) کی توفیق مانگتا ہوں، میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی اچھی عبادت کرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسان صادق اور قلب سلیم کا طالب ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے اور اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، ( وہ گئیں تو ) آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
حدیث 3409 — جامع الترمذي 48:40
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَشْكُو مَجَلاً بِيَدَيْهَا فَأَمَرَهَا بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ .
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( آپ کی بیٹی ) فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح ( سبحان اللہ ) تکبیر ( اللہ اکبر ) اور تحمید ( الحمدللہ ) پڑھنے کا حکم دیا۔