حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ لأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا . فَقَالَ لاَ . حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ . فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ " إِنَّ الصَّدَقَةَ لاَ تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اسْمُهُ أَسْلَمُ وَابْنُ أَبِي رَافِعٍ هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه .
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی پر بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا: تم میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حصہ پاس کو، مگر انہوں نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں، چنانچہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں، اور قوم کے موالی بھی قوم ہی میں سے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ہیں، ان کا نام اسلم ہے اور ابن ابی رافع کا نام عبیداللہ بن ابی رافع ہے، وہ علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے منشی تھے۔
سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے“، نیز فرمایا: ”مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق: «حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- نیز شعبہ نے بطریق: «عاصم، عن حفصة، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے، ۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق: «حفصة، عن الرباب، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، ۶- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اہلیہ زینب، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ۱؎“ پھر آپ نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «ليس البر أن تولوا وجوهكم» ”نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو“ ۲؎ الآیۃ۔
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے ۱؎، ۲- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے، ۳- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ”کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے“ اور « ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات» ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ”اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ”ہاتھ، کان، آنکھ“ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے: «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ”یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے“ تو یہ تشیبہ ہوئی۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ”اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے“۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں“، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”رمضان میں صدقہ کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجید حواء رضی الله عنہا ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ( تو میں کیا کروں؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام بجید رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حسین بن علی، ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے روز مجھے دیا، آپ مجھے ( فتح مکہ سے قبل ) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا، ۲- اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ۱؎، ۴- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، سفیان ثوری، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے، یہ شافعی کا قول ہے۔