قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

65 احادیث · #617–681

حدیث 667 — جامع الترمذي 7:51
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ صُومِي عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَلاَ يُعْرَفُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا حَلَّتْ لَهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ شَيْءٌ جَعَلَهَا لِلَّهِ فَإِذَا وَرِثَهَا فَيَجِبُ أَنْ يَصْرِفَهَا فِي مِثْلِهِ ‏.‏ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ‏.‏
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی، اب وہ مر گئیں ( تو اس لونڈی کا کیا ہو گا؟ ) آپ نے فرمایا: ”تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اُسے تمہیں لوٹا بھی دیا“۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے“، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بریدہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔ ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہو جائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے ( یہ زیادہ افضل ہے ) ۔
حدیث 668 — جامع الترمذي 7:52
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا صدقہ واپس نہ لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدیث 669 — جامع الترمذي 7:53
صحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ ‏.‏ يَقُولُونَ لَيْسَ شَيْءٌ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ إِلاَّ الصَّدَقَةُ وَالدُّعَاءُ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏ قَالَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّ لِي مَخْرَفًا ‏.‏ يَعْنِي بُسْتَانًا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے عرض کیا: میرا ایک باغ ہے، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ۱؎، ۴- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے۔
حدیث 670 — جامع الترمذي 7:54
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ ‏"‏ لاَ تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلاَّ بِإِذْنِ زَوْجِهَا ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ الطَّعَامُ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 671 — جامع الترمذي 7:55
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلاَ يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لَهُ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور اتنا ہی اجر اس کے شوہر کو بھی، اور خزانچی کو بھی، اور ان میں کسی کا اجر دوسرے کے اجر کی وجہ سے کم نہیں کیا جاتا۔ شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کے خرچ کرنے کا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 672 — جامع الترمذي 7:56
صحیح Lighairihiصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَعْطَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا بِطِيبِ نَفْسٍ غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِهِ لَهَا مَا نَوَتْ حَسَنًا وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ لاَ يَذْكُرُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَسْرُوقٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوش دلی کے ساتھ بغیر فساد کی نیت کے کوئی چیز دے تو اسے مرد کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔ اسے اپنی نیک نیتی کا ثواب ملے گا اور خازن کو بھی اسی طرح ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابووائل سے روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، عمرو بن مرہ اپنی روایت میں مسروق کے واسطے کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔
حدیث 673 — جامع الترمذي 7:57
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَتَكَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ إِنِّي لأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعًا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعٌ إِلاَّ مِنَ الْبُرِّ فَإِنَّهُ يُجْزِئُ نِصْفُ صَاعٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ يَرَوْنَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے – صدقہ فطر ۱؎ میں ایک صاع گیہوں ۲؎ یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی الله عنہ مدینہ آئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے، اس میں آدھا صاع کافی ہے، ۴- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے۔
حدیث 674 — جامع الترمذي 7:58
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَالَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مِينَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ حدثنا جارود حدثنا عمر بن هارون هذا الحديث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ ”سنو! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی، اور کہا: «العباس بن ميناء عن النبي صلى الله عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
حدیث 675 — جامع الترمذي 7:59
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ‏.‏ قَالَ فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَجَدِّ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ وَثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا ( یعنی ابوذباب ) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 676 — جامع الترمذي 7:60
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَزَادَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَبِيدٌ غَيْرُ مُسْلِمِينَ لَمْ يُؤَدِّ عَنْهُمْ صَدَقَةَ الْفِطْرِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يُؤَدِّي عَنْهُمْ وَإِنْ كَانُوا غَيْرَ مُسْلِمِينَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت پر فرض کیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک نے بھی بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» ایوب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں «من المسلمين» کا اضافہ ہے۔ ۳- اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے روایت کی ہے، اس میں «من المسلمين» کا ذکر نہیں ہے، ۴- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو وہ ان کا صدقہ فطر ادا نہیں کرے گا۔ یہی مالک، شافعی اور احمد کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاموں کا صدقہ فطر ادا کرے گا خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں، یہ ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔