قرآني·Qurani
اردو

المغازي

71 احادیث · #1548–1618

حدیث 1588 — جامع الترمذي 21:50
حسن
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ وَأَخَذَهَا عُمَرُ مِنْ فَارِسَ وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنَ الْفُرْسِ ‏.‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ هُوَ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدیث 1589 — جامع الترمذي 21:51
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَمُرُّ بِقَوْمٍ فَلاَ هُمْ يُضَيِّفُونَا وَلاَ هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ وَلاَ نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ أَبَوْا إِلاَّ أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا فَخُذُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَيْضًا ‏.‏ وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَخْرُجُونَ فِي الْغَزْوِ فَيَمُرُّونَ بِقَوْمٍ وَلاَ يَجِدُونَ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَشْتَرُونَ بِالثَّمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوا إِلاَّ أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا فَخُذُوا ‏"‏ ‏.‏ هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِنَحْوِ هَذَا ‏.‏
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جو نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ان پر جو ہمارا حق ہے اسے ادا کرتے ہیں، اور ہم ان سے کچھ نہیں لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نہ دیں سوائے اس کے کہ تم زبردستی ان سے لو، تو زبردستی لے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے لیث بن سعد نے بھی یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ بخاری کی سند میں ہے ) ، ۳- اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے، جہاں کھانا نہیں پاتے تھے، کہ قیمت سے خریدیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ( کھانا ) فروخت کرنے سے انکار کریں سوائے اس کے کہ تم زبردستی لو تو زبردستی لے لو، ۴- ایک حدیث میں اسی طرح کی وضاحت آئی ہے، عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ بھی اسی طرح کا حکم دیا کرتے تھے ۱؎۔
حدیث 1590 — جامع الترمذي 21:52
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ نَحْوَ هَذَا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1591 — جامع الترمذي 21:53
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى‏:‏ ‏(‏لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ‏)‏ قَالَ جَابِرٌ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَابْنِ عُمَرَ وَعُبَادَةَ وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ: «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» ”اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے“۔ ( الفتح: ۱۸ ) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع، ابن عمر، عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1592 — جامع الترمذي 21:54
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 1593 — جامع الترمذي 21:55
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَيَقُولُ لَنَا ‏ "‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلاَهُمَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے ) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے: ”جتنا تم سے ہو سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہما دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے، ( ان میں تعارض نہیں ہے ) بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی، ان لوگوں نے کہا تھا: ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کر دیئے جائیں، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا: ہم نہیں بھاگیں گے۔
حدیث 1594 — جامع الترمذي 21:56
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمَعْنَى كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ قَدْ بَايَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى الْمَوْتِ وَإِنَّمَا قَالُوا لاَ نَزَالُ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى نُقْتَلَ وَبَايَعَهُ آخَرُونَ فَقَالُوا لاَ نَفِرُّ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، ہم نے تو آپ سے بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے ( چاہے اس کا انجام کبھی موت ہی کیوں نہ ہو جائے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 1595 — جامع الترمذي 21:57
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ بِلَا اخْتِلَافٍ.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے ( اس کی مرضی کے مطابق ) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے۔
حدیث 1596 — جامع الترمذي 21:58
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْهِجْرَةِ وَلاَ يَشْعُرُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بِعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اسے بیچ دو“، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدیث 1597 — جامع الترمذي 21:59
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ لَنَا ‏"‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ تَعْنِي صَافِحْنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ‏.‏ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لاَ أَعْرِفُ لأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَأُمَيْمَةُ امْرَأَةٌ أُخْرَى لَهَا حَدِيثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
امیمہ بنت رقیقہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کئی عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ نے ہم سے فرمایا: ”اطاعت اس میں لازم ہے جو تم سے ہو سکے اور جس کی تمہیں طاقت ہو“، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے بیعت لیجئے ( سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: ان کا مطلب تھا مصافحہ کیجئے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو عورتوں کے لیے میرا قول میرے اس قول جیسا ہے جو ایک عورت کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی لوگوں نے محمد بن منکدر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں امیمہ بنت رقیقہ کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں جانتا ہوں، ۳- امیمہ نام کی ایک دوسری عورت بھی ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث آئی ہے۔ ۴- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔