قرآني·Qurani
اردو

المغازي

71 احادیث · #1548–1618

حدیث 1598 — جامع الترمذي 21:60
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ، بَدْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ كَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ ثَلاَثِمِائَةٍ وَثَلاَثَةَ عَشَرَ رَجُلاً ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری اور دوسرے لوگوں نے بھی ابواسحاق سبیعی سے اس کی روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدیث 1599 — جامع الترمذي 21:61
صحیحصحیححسن Sahih
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس ( یعنی پانچواں حصہ ) ادا کرو، امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 1600 — جامع الترمذي 21:63
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ فَاطَّبَخُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَى النَّاسِ فَمَرَّ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبِيهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ، جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي، رَيْحَانَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ ‏.‏
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق: «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے، ۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم، انس، ابوریحانہ، ابوالدرداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1601 — جامع الترمذي 21:64
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث 1602 — جامع الترمذي 21:65
صحیحصحیحصحیحصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلاَمِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ ‏"‏ لاَ تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّمَا مَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ لأَنَّهُ يَكُونُ تَعْظِيمًا لَهُ وَإِنَّمَا أُمِرَ الْمُسْلِمُونَ بِتَذْلِيلِهِمْ وَكَذَلِكَ إِذَا لَقِيَ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَلاَ يَتْرُكُ الطَّرِيقَ عَلَيْهِ لأَنَّ فِيهِ تَعْظِيمًا لَهُمْ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور ان میں سے جب کسی سے تمہارا آمنا سامنا ہو جائے تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس رضی الله عنہم اور ابو بصرہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم خود ان سے سلام نہ کرو ( بلکہ ان کے سلام کرنے پر صرف جواب دو ) ، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہو گی جب کہ مسلمانوں کو انہیں تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس سے بھی ان کی تعظیم ہو گی ( جو صحیح نہیں ہے ) ۔
حدیث 1603 — جامع الترمذي 21:66
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام عليک» ( یعنی تم پر موت ہو ) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو ( یعنی تم پر موت ہو ) “۔
حدیث 1604 — جامع الترمذي 21:67
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ ‏"‏ أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِمَ قَالَ ‏"‏ لاَ تَرَايَا نَارَاهُمَا ‏"‏ ‏.‏
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا، ( کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے ) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آخر کیوں؟ آپ نے فرمایا: ” ( مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ ) وہ دونوں ایک دوسرے ( کے کھانا پکانے ) کی آگ نہ دیکھ سکیں“ ۱؎۔
حدیث 1605 — جامع الترمذي 21:68
ضعیف
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ، ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَمُرَةَ، ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ إِسْمَاعِيلَ قَالُوا عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ سَرِيَّةً وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ.‏ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ الصَّحِيحُ حَدِيثُ قَيْسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَرَوَى سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَاكِنُوا الْمُشْرِكِينَ وَلَا تُجَامِعُوهُمْ فَمَنْ سَاكَنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ فَهُوَ مِثْلُهُمْ
عبدہ نے یہ حدیث بطریق: «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( مرسلاً ) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے، اس میں انہوں ( عبدہ ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن ابی خالد کے اکثر شاگرد اسماعیل کے واسطہ سے قیس بن ابی حازم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ کیا، ان لوگوں نے اس میں جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بطریق: «الحجاج بن أرطاة عن إسمعيل بن أبي خالد عن قيس عن جرير» ( مرفوعاً ) ابومعاویہ کے مثل اس کی روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صحیح یہ ہے کہ قیس کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے، نیز سمرہ بن جندب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”مشرکوں کے ساتھ نہ رہو اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرو، جو ان کے ساتھ رہے گا یا ان کی ہم نشینی اختیار کرے گا وہ بھی انہیں میں سے مانا جائے گا، ۳- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 1606 — جامع الترمذي 21:69
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ‏"‏ ‏.‏
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا“ ۱؎۔
حدیث 1607 — جامع الترمذي 21:70
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَلاَ أَتْرُكُ فِيهَا إِلاَّ مُسْلِمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔