أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ الْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
حدیث 2890 — سنن النسائي 24:273
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ فاسق ( موذی ) جانور ہیں انہیں حرم اور حرم کے باہر دونوں جگ ہوں میں مارا جا سکتا ہے: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا“۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس سند کا ذکر یوں کرتے ہیں: «عن الزهري عن سالم عن أبيه وعن عروة عن عائشة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور فاسق ( موذی ) ہیں انہیں حرم میں ( بھی ) مارا جا سکتا ہے ( وہ ہیں ) : بچھو، چوہیا، کوا، کاٹ کھانے والا کتا اور چیل“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مکہ ہے جس کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اسی دن قائم کر دی تھی جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا، صرف میرے لیے دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا اور وہ یہی گھڑی ہے اور یہ اب اللہ تعالیٰ کے حرام کر دینے کی وجہ سے قیامت تک حرام رہے گا، نہ اس کی تازہ گھاس کاٹی جائے گی، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ اس کی کوئی گری پڑی چیز حلال ہو گی، مگر اس شخص کے لیے جو اس کی تشہیر کرنے والا ہو“، یہ سنا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما اٹھے، وہ ایک تجربہ کار شخص تھے اور کہنے لگے سوائے اذخر کے، کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے“۔
حدیث 2893 — سنن النسائي 24:276
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُويَهْ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَابْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ قَالَ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خَلِّ عَنْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَلاَمُهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ " .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ۱؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی“، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں ( پڑھنے دو ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا، اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ کو دیکھے، تو کیا وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ یہود کے سوا کوئی ایسا کرتا ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔
حدیث 2898 — سنن النسائي 24:281
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ إِسْحَاقُ أَنْبَأَنَا وَقَالَ، مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْكَعْبَةَ " .
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔