ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز کعبہ کے علاوہ دوسری مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے“۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد میں کمی کر دی“ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی ۱؎“ ( تو میں ایسا کر ڈالتا ) ۲؎ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن ( رکن شامی و عراقی ) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی ( اس جانب سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا دیتا، اور اسے ( پھر سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، اور سامنے کے مقابل میں پیچھے بھی ایک دروازہ کر دیتا، قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اسے گھٹا دیا“۔
ام المؤمنین (عائشہ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری قوم ( اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم ) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، تو جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق ) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ۱؎۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیے جانے کا حکم دیتا، اور جو حصہ اس سے نکال دیا گیا ہے اسے اس میں داخل کر دیتا، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا، اور اس میں دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب، کیونکہ وہ اس کی تعمیر سے عاجز رہے تو میں اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر پہنچا دیتا“۔ راوی کہتے ہیں: اسی چیز نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اسے منہدم کرنے پر آمادہ کیا۔ یزید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں موجود تھا جس وقت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرا کر دوبارہ بنایا، اور حطیم کو اس میں شامل کیا۔ اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے پتھر دیکھے، وہ پتھر اونٹ کی کوہان کی طرح تھے، ایک دوسرے میں پیوست۔
حدیث 2904 — سنن النسائي 24:287
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ۱؎۔
حدیث 2905 — سنن النسائي 24:288
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ فَمَكَثُوا فِيهَا مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبْتُ الدَّرَجَةَ وَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا هَا هُنَا . وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْتِ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اندر داخل ہو چکے تھے، اور ( ان کے اندر جاتے ہی ) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ( اور آپ کے نکلتے ہی ) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔
حدیث 2906 — سنن النسائي 24:289
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ وَمَعَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَبِلاَلٌ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَمَكَثَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ خَرَجَ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ بِلاَلاً قُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَا بَيْنَ الأُسْطُوَانَتَيْنِ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔
حدیث 2907 — سنن النسائي 24:290
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكَعْبَةَ وَدَنَا خُرُوجُهُ وَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ وَجِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَارِجًا فَسَأَلْتُ بِلاَلاً أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔
حدیث 2908 — سنن النسائي 24:291
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلاَلاً عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ يَا بِلاَلُ أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ . قُلْتُ أَيْنَ قَالَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الأُسْطُوَانَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ .
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ ( دیکھئیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی ابھی ) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ ( ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل چکے ہیں، اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔