قرآني·Qurani
اردو

الحيض والاستحاضة

48 احادیث · #348–395

حدیث 358 — سنن النسائي 3:10
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قَرْؤُكِ فَلاَ تُصَلِّي وَإِذَا مَرَّ قَرْؤُكِ فَلْتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ ‏.‏
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے استحاضہ کے خون کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے، تو تم دیکھتی رہو جب تمہارا حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب تمہارا حیض گزر جائے تو پاکی حاصل کرو ( یعنی غسل کرو ) پھر اس حیض سے دوسرے حیض کے بیچ نماز پڑھو ۔
حدیث 359 — سنن النسائي 3:11
صحیحصحیح
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ ‏ "‏ لاَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض آنے لگے تو نماز ترک کر دو اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو ۔
حدیث 360 — سنن النسائي 3:12
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قِيلَ لَهَا إِنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلاً وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلاً وَاحِدًا وَتَغْتَسِلَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ غُسْلاً وَاحِدًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مستحاضہ عورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہا گیا کہ یہ ایک نہ بند ہونے والی رگ ہے، اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، عشاء کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔
حدیث 361 — سنن النسائي 3:13
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ ( نماز نہ پڑھو ) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے ( دونوں کو ایک ساتھ ) پڑھو، اور فجر کے لیے ( الگ ایک ) غسل کرو ۔
حدیث 362 — سنن النسائي 3:14
حسن Sahihحسن Sahihصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ - فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ - فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ ‏.‏
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ خون ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو تم نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو، کیونکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے ۔ محمد بن مثنی کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی ہے۔
حدیث 363 — سنن النسائي 3:15
حسن Sahihحسن Sahihضعیف
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، مِنْ حِفْظِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكِ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلاَةِ فَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے «واللہ تعالیٰ اعلم»۔
حدیث 364 — سنن النسائي 3:16
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ لَهُ فَالْغُسْلُ قَالَ ‏"‏ وَذَلِكَ لاَ يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ‏"‏ وَتَوَضَّئِي ‏"‏ ‏.‏ غَيْرُ حَمَّادٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہوئیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو اور وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ تو بس رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، ( راوی سے ) پوچھا گیا غسل کرے؟ تو اس نے کہا: اس میں کسی کو شک نہیں ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں «وتوضئي» کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے، «واللہ تعالیٰ اعلم»۔
حدیث 365 — سنن النسائي 3:17
-صحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
حدیث 366 — سنن النسائي 3:18
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب اس کے بقدرگزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
حدیث 367 — سنن النسائي 3:19
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَطْهُرُ أَفَأَتْرُكُ الصَّلاَةَ قَالَ ‏"‏ لاَ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ ‏"‏ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ ( کا خون ) ہے، ( خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے ) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔