ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں سے میں پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا پانی پیتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی۔
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے برتن دیتے، تو میں اس سے پیتی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں اسے آپ کو دے دیتی تھی تو آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاشتے اور اسی ( جگہ ) کو اپنے منہ پر رکھتے۔
حدیث 380 — سنن النسائي 3:32
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْقَدَحِ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَأَتَعَرَّقُ مِنَ الْعَرْقِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔
حدیث 381 — سنن النسائي 3:33
حسنحسنصحیح
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم ( بیویوں ) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ( خارجیہ ) ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو ، تو انہوں نے کہا: میں ( آج کل ) نماز نہیں پڑھ رہی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( حیض ) تمہارے ہاتھ میں نہیں ، تو انہوں نے کپڑا اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ .
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی۔
حدیث 386 — سنن النسائي 3:39
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتیں وہ حائضہ ہوتیں، اور آپ معتکف ہوتے، ( اس طرح کہ ) آپ اپنا سر ( مسجد سے نکال کر ) ان کے پاس کر دیتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں۔
حدیث 387 — سنن النسائي 3:40
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُدْنِي إِلَىَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور آپ معتکف ہوتے، تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔