حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا ( اگر میں روزہ رکھوں تو ) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
حدیث 2306 — سنن النسائي 22:217
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ حَمْزَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔