ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا۔
حدیث 2311 — سنن النسائي 22:222
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھے اور بعض نے نہیں۔
ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا۔
حدیث 2313 — سنن النسائي 22:224
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
حدیث 2314 — سنن النسائي 22:225
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ فَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے ( پانی سے بھرا ) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
حدیث 2315 — سنن النسائي 22:226
حسنحسنIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " . فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ " .
انس بن مالک (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“۔ انہوں نے عرض کیا: میں روزہ دار ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے“۔
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ( اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں ) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے ( کھائے پئے ) اور فدیہ دیدے ( تو وہ ایسا کر لیتا ) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» میں «يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، ( تو ہر روزہ کے بدلے ) ان پر ایک مسکین کے دونوں وقت کے کھانے کا فدیہ ہے، ( اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی ) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، ( یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں ) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے۔