قرآني·Qurani
اردو

الصيام

345 احادیث · #2090–2434

حدیث 2320 — سنن النسائي 22:231
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ أَبُو حَصِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏"‏ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَكَلَ الْيَوْمَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَصُمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَابْعَثُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن صیفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے آج کے دن کھایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن ہوں نے روزہ رکھا ہے، اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرو ۱؎، اہل عروض ۲؎ کو خبر کرا دو کہ وہ بھی اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پئے ) پورا کریں“۔
حدیث 2321 — سنن النسائي 22:232
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏ "‏ أَذِّنْ - يَوْمَ عَاشُورَاءَ - مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ ‏"‏ ‏.‏
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”لوگوں میں عاشوراء کے دن اعلان کر دو: جس نے کھا لیا ہے وہ باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرے، اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے“۔
حدیث 2322 — سنن النسائي 22:233
حسنحسنIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَىَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے، اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے؟“ تو میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ۱؎ آیا ہوا تھا، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا، آپ کو حیس بہت پسند تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”لاؤ حاضر کرو، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے“ ( مگر کھاؤ گا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر فرمایا: ”نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالتا ہے، جی چاہا دے دیا، جی چاہا نہیں دیا، روک لیا“۔
حدیث 2323 — سنن النسائي 22:234
حسنحسنحسن
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَارَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَوْرَةً قَالَ ‏"‏ أَعِنْدَكِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لَيْسَ عِنْدِي شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَا صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ عَلَىَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلْتَ عَلَىَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ - أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ أَوْ فِي التَّطَوُّعِ - بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے؟“ میں نے عرض کیا، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں عائشہ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا“ ۱؎۔
حدیث 2324 — سنن النسائي 22:235
حسن Sahihصحیححسن
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجِيءُ وَيَقُولُ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَنَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا نَعَمْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ میں کہتی تھی: نہیں، تو آپ فرماتے تھے: ”میں روزہ سے ہوں“، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا: ”کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا“، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث 2325 — سنن النسائي 22:236
حسن Sahihحسن Sahihصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقُلْنَا أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ قَدْ جَعَلْنَا لَكَ مِنْهُ نَصِيبًا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَفْطَرَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، ہم نے عرض کیا: ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا، ہم نے اس میں آپ کا ( بھی ) حصہ لگایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا۔
حدیث 2326 — سنن النسائي 22:237
حسن Sahihحسن Sahihحسن
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ ‏"‏ أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ تُطْعِمِينِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَقُولُ لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ حَيْسٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے: ”تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو؟“ ہم کہتے نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں نے روزہ رکھ لیا“ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حیس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا“ پھر آپ نے کھایا۔
حدیث 2327 — سنن النسائي 22:238
حسن Sahihحسن Sahihحسن
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“۔
حدیث 2328 — سنن النسائي 22:239
حسن Sahihحسن Sahihصحیح
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَاهَا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَدَعَا بِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، تو آپ نے اسے منگوایا، اور فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی“، پھر آپ نے کھایا۔
حدیث 2329 — سنن النسائي 22:240
ضعیفحسن
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ ‏ "‏ هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ‏"‏ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ‏.‏
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔