قرآني·Qurani
اردو

الصيام

345 احادیث · #2090–2434

حدیث 2420 — سنن النسائي 22:331
حسنحسنصحیح
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے“ ( یعنی ایام بیض کے روزے ) اور ایام بیض ( چاند کی ) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ۱؎۔
حدیث 2421 — سنن النسائي 22:332
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَأْكُلْ وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی ( دیہاتی ) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی ( دیہاتی ) سے پوچھا: ”تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں“ ۱؎۔
حدیث 2422 — سنن النسائي 22:333
حسنحسنIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں: تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔
حدیث 2423 — سنن النسائي 22:334
حسنحسنحسن
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔
حدیث 2424 — سنن النسائي 22:335
حسنحسنحسن
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو“۔
حدیث 2425 — سنن النسائي 22:336
حسن Lighairihiحسنحسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏ "‏ عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ وَلَعَلَّ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الأَلِفُ فَصَارَ بَيَانٌ ‏.‏
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہاں ( راوی سے ) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا «حدثنا اثنان» کہا ہو تو «اثنان» کا الف گر گیا پھر «ثنان» سے بیان ہو گیا ( جیسا کہ اگلی روایت میں ہے ) ۔
حدیث 2426 — سنن النسائي 22:337
حسن Lighairihiحسنحسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلاَنِ، مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً بِصِيَامِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔
حدیث 2427 — سنن النسائي 22:338
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ قَالَ أُبَىٌّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ لاَ يَضُرُّ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِلأَعْرَابِيِّ ‏"‏ كُلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَوْمُ مَاذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ فَقِيلَ أُبَىٌّ ‏.‏
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ“، اور آپ نے اعرابی ( دیہاتی ) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: ”کیسا روزے؟“ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: صحیح «عن ابی ذر» ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا۔
حدیث 2428 — سنن النسائي 22:339
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا ‏.‏ فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَهَلاَّ ثَلاَثَ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟“۔
حدیث 2429 — سنن النسائي 22:340
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ ‏"‏ كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا ‏"‏ ‏.‏ وَرَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ صُمْتَ الْبِيضَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَا هُنَّ قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون ( حیض ) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص ( جو اسے لایا تھا ) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔