قرآني·Qurani
اردو

الصيام

345 احادیث · #2090–2434

حدیث 2430 — سنن النسائي 22:341
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الأَيَّامِ الثَّلاَثِ الْبِيضِ وَيَقُولُ ‏ "‏ هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏
قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔
حدیث 2431 — سنن النسائي 22:342
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامِ الْبِيضِ قَالَ ‏ "‏ هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔
حدیث 2432 — سنن النسائي 22:343
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏
قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حدیث 2433 — سنن النسائي 22:344
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي زِدْنِي إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏"‏ ‏.‏ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي قَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات ”کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو“۔
حدیث 2434 — سنن النسائي 22:345
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّوْمِ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَاسْتَزَادَهُ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَزَادَهُ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ‏"‏ ‏.‏ فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات ) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔