قرآني·Qurani
اردو

قيام الليل والتطوع

220 احادیث · #1598–1817

حدیث 1678 — سنن النسائي 20:81
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ وَصَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ۱؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔
حدیث 1679 — سنن النسائي 20:82
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلاَزِمِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ زَارَنَا أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمْسَى بِنَا وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلاً فَقَالَ لَهُ أَوْتِرْ بِهِمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں ۔
حدیث 1680 — سنن النسائي 20:83
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَثَبَ فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلاَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ ‏.‏
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر ( صبح ) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، اگر جنبی ہوتے تو ( اپنے اوپر پانی ڈالتے ) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔
حدیث 1681 — سنن النسائي 20:84
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر ( صبح ) تک پہنچ گیا تھا ۱؎۔
حدیث 1682 — سنن النسائي 20:85
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلاَتِهِ وَتْرًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔
حدیث 1683 — سنن النسائي 20:86
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمِ بْنِ أَبِي سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوَتْرِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وتر صبح ہونے ( فجر نکلنے ) سے پہلے پڑھو ۔
حدیث 1684 — سنن النسائي 20:87
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر فجر نکلنے سے پہلے پڑھ لو ۔
حدیث 1685 — سنن النسائي 20:88
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ فَجَاءَ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الأَذَانِ وَتْرٌ قَالَ نَعَمْ وَبَعْدَ الإِقَامَةِ ‏.‏ وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى ‏.‏
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہو گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا: کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے ( اٹھ کر ) نماز پڑھی۔
حدیث 1686 — سنن النسائي 20:89
صحیحصحیحIsnaad Sahih Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
حدیث 1687 — سنن النسائي 20:90
صحیحصحیحIsnaad Sahih Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم اپنے اونٹ پر وتر پڑھتے تھے، اور ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔