قرآني·Qurani
اردو

الأشربة

270 احادیث · #5114–5383

حدیث 5324 — صحيح مسلم 36:198
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي طَعَامِ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
نضر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھا نے کے بارے میں ان سب کی حدیث کے مطا بق روایت کیا ۔
حدیث 5325 — صحيح مسلم 36:199
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ‏.‏ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الصَّحْفَةِ ‏.‏ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ ‏.‏
اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تیار کیے ہوئے کھانے کی دعوت دی ، حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کھانے پر گیا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جوکی روٹی اور شوربہ رکھا ، اس میں کدو اور چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں محفوظ کیا ہوا گوشت تھا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیا لے کی چاروں طرف سے کدو تلا ش کررہےتھے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں اسی دن سے کدو کو پسند کرتا ہوں ۔
حدیث 5326 — صحيح مسلم 36:200
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ الدُّبَّاءِ وَيُعْجِبُهُ - قَالَ - فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلاَ أَطْعَمُهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّاءُ ‏.‏
سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھا نے کی دعوت دی میں بھی آپ کے ساتھ گیا ۔ آپ کے لیے شوربہ لا یا گیا اس میں کدو ( بھی ) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کھا نے لگے وہ آُ کو اچھا لگ رہا تھا ۔ جب میں نے یہ بات دیکھی تو میں کدو ( کے ٹکڑے ) آپ کے سامنے کرنے لگا اور خود نہ کھا ئے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس دن کے بعد سے مجھے کدو بہت اچھا لگتا ہے ۔
حدیث 5327 — صحيح مسلم 36:201
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَزَادَ قَالَ ثَابِتٌ فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلاَّ صُنِعَ ‏.‏
معمر نے ثابت بنا نی اور عاصم احول سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے جو درزی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور یہ اضافہ کیا کہ ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : اس کے بعد جب بھی میرے لیے کھانا بنتا ہے اور میں ایسا کرسکتا ہوں کہ اس میں کدو ڈالا جا ئے تو ڈالا جا تا ہے ۔
حدیث 5328 — صحيح مسلم 36:202
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَبِي - قَالَ - فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى - قَالَ شُعْبَةُ هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الإِصْبَعَيْنِ - ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ - قَالَ - فَقَالَ أَبِي وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہو ئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا ، آپ نے اس میں سے تناول فرما یا ، پھر آپ کے سامنے کھجور یں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے ۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے ۔ ( کھا نے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں ۔ شعبہ نے کہا : میر اگمان ( غالب ) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دوانگلیوں کے درمیان ڈالنا اس ( حدیث ) میں ہے ۔ پھر ( آپ کےسامنے ) مشروب لا یا گیا ۔ آپ نے اسے پیا ، پھر اپنی دائیں جا نب والے کو دے دیا ۔ ( عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے والد نے جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگا م پکڑی ہو ئی تھی عرض کی : ہمارے لیے اللہ سے دعا فرما ئیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فرما یا " اے اللہ !تونے انھیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما ۔
حدیث 5329 — صحيح مسلم 36:203
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الإِصْبَعَيْنِ ‏.‏
ابن ابی عدی اور یحییٰ بن حماد دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں شک ( کا اظہار ) نہیں کیا ۔
حدیث 5330 — صحيح مسلم 36:204
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا - إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الْقُثَّاءَ بِالرُّطَبِ ‏.‏
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھا تے ہو ئے دیکھا ۔
حدیث 5331 — صحيح مسلم 36:205
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ كِلاَهُمَا عَنْ حَفْصٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا ‏.‏
حفص بن غیاث نے مصعب بن سلیم سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں گھٹنے کھڑےکر کے تھوڑے سے زمین پر لگ کر بیٹھے تھے ۔ کھجوریں کھا رہے تھے ۔
حدیث 5332 — صحيح مسلم 36:206
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلاً ذَرِيعًا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَكْلاً حَثِيثًا ‏.‏
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سلیم سے انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھےہو ئے ان کو تقسیم فرما نے لگے جیسے آپ ابھی اٹھنےلگے ہوں ( بیٹھنےکی وہی کیفیت جو پچھلی حدیث میں بیان ہو ئی دوسرے لفظوں میں بتا ئی گئی ہے ) اور آپ اس میں سے جلدی جلدی چند دانے کھارہے تھے ۔ زہیر کی ۔ روایت میں ذَريعاً کے بجائے حَثِيثًا کا لفظ ہے یعنی بغیر کسی اہتمام کے جلدی جلدی ۔
حدیث 5333 — صحيح مسلم 36:207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ جَبَلَةَ، بْنَ سُحَيْمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ - قَالَ - وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جُهْدٌ وَكُنَّا نَأْكُلُ فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فَيَقُولُ لاَ تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الإِقْرَانِ إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ لاَ أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلاَّ مِنْ كَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ يَعْنِي الاِسْتِئْذَانَ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے جبلہ بن سحیم سے سنا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں کھجوروں کا راشن دیتے تھے ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے ۔ اور ہم ( کھجوریں ) کھاتے تھے ۔ ہم کھا رہے ہو تے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے قریب سے گزرتے اور فرما تے : اکٹھی دودوکھجوریں مت کھاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھی دودو کھجوریں کھانے سے منع فرما یا ہے ، سوائے اس کے کہ آدمی اپنے ( ساتھ کھانے والے ) بھا ئی سے اجازت لے ۔ شعبہ نے کہا : میرا یہی خیال ہے کہ یہ جملہ یعنی اجازت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا قول ہے ۔ ( انھوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیا ۔)
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔