عبید اللہ کے والد معاذ اور عبدالرحمٰن بن مہدی دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ان دونوں کی روایت میں شعبہ کا اور ان ( جبلہ بن سحیم ) کا یہ قول موجود نہیں ، ِ " ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے ۔
حدیث 5335 — صحيح مسلم 36:209
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ .
سفیان نے جبلہ بن سحیم سے روایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کو ئی شخص ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر اکٹھی دودوکھجوریں کھائے ۔
حدیث 5336 — صحيح مسلم 36:210
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ بِلاَلٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ " .
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسے گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جن کے پاس کھجوریں ہوں ۔
ابوالرجال محمد بن عبد الرحمٰن نے اپنی والدہ ( عمرہ منت عبد الرحمان انصاریہ ) سے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں ۔ جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں ۔ یا فرما یا ) اس گھر کے لو گ بھوکے رہ جا تے ہیں ۔ آپ نے یہ کلمات دویا تین بار فرما ئے ۔
عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے عامر سعد بن ابی وقاص سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : جس شخص نے صبح کے وقت مدینہ کے دوپتھریلے میدانوں کے درمیان کی ساتھ کھجوریں کھا لیں ، اس کو شام تک کو ئی زہر نقصان نہیں پہنچا ئے گا ۔
ابو اسامہ نے ہا شم بن ہاشم سے روایت کی ، کہا : میں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے سنا ، کہہ رہے تھے میں نے ( اپنے والد ) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھالیں اس دن اسے زہر نقصان پہنچا سکے گا نہ جا دو ۔
حدیث 5340 — صحيح مسلم 36:214
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ كِلاَهُمَا عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ وَلاَ يَقُولاَنِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
مروان بن معاویہ فرازی اور ابو بدر شجاع بن ولید دونوں نے ہاشم بن ہاشم سے ، اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ وہ دونوں یہ نہیں کہتے : میں نے نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
عبد اللہ بن ابی عتیق نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( مدینہ کے ) بالائی حصے کی عجوہ کھجوروں میں شفاہے یا ( فرما یا : ) صبح کے اول وقت میں ان کا استعمال تریا ق ہے ۔
جریر اور عمر بن عبید نے عبدالملک بن عمیر سے انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا " کھمبی من ( وہ کھانا جو سلویٰ کے ساتھ بنی اسرا ئیل کے لیے آسمان کی جانب سے اتراتھا ) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی کہا : عمرو بن حریث سےسنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرما رہے تھے " کھمبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پا نی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔