شعبہ نے کہا : مجھے بن عتیبہ نے حسن عرنی سے خبر دی انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ شعبہ نے کہا : جب مجھ سے حکم نے یہ روایت کی تو میں نے عبد الملک کی روایت کی وجہ سے اس کو منکر قرارنہ دیا ۔
عبثر نے مطرف سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے عمرو بن حریث سے انھوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے بنی اسرا ئیل کے لیے نازل کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
جریر نے مطرف سے انھوں نے حکم بن عتیبہ سے انھوں نے حسن عرنی سے انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو ( آسمان سے ) اتار کر عطا کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
سفیا ن نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ عزوجل نے بنی اسرئیل پر ( آسمان سے ) اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔
شہر بن حوشب نے کہا : میں نے عبد الملک بن عمیر سےسنا ، انھوں نے کہا : میں عبد الملک سے ملا تو انھوں نے مجھے عمرو بن حریث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" کھمبی اس من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
حدیث 5349 — صحيح مسلم 36:223
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَنَحْنُ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ " . قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ رَعَيْتَ الْغَنَمَ قَالَ " نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ رَعَاهَا " . أَوْ نَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ .
ابو سلمہ عبد الرحمٰن نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم مرالظہرا ن ( کے مقام ) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلو چن رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان میں سے سیاہ پیلو چنو ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یوں لگتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرا ئی ہو ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہاں کو ئی نبی نہیں جس نے بکریاں نہ چرا ئی ہوں ۔ " یا اسی طرح کی بات ارشاد فرما ئی ۔
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " سالنوں میں سے عمدہ یا ( فرمایا ) عمدہ سالن سرکہ ہے ۔
ابو بشر نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھا نا شروع کردی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ۔ " سرکہ عمدہ سالن ہے سرکہ عمدہ سالن ہے ۔
اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا : مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت جا بربن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لا یا آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن نہیں ہے؟ " اس نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " بلا شبہ سرکہ عمدہ سالن ہے ۔ " حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ ( راوی ) نے کہا : جب سے میں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکے کو پسند کرتا ہوں ۔