نصر کے والد علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : " سرکہ عمدہ سالن ہے " تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حجاج بن ابی زینب نے کہا : مجھے ابو سفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہا تھ پکڑا اور چل پرے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجروں میں سے کسی کےحجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئےپھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں ( حجرہ انورمیں ) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرما یا : " کچھ کھا نے کو ہے؟ " گھر والوں نے کہا : ہے اور تین روٹیاں لا ئی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال ( دستراخوان ) پر رکھ دیا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دوٹکڑے کیے ، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن بھی ہے؟ " گھر والوں نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جا بر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کو ئی کھا نا لا یا جا تا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جا تا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھا نا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھا یا تھا کیونکہ اس میں ( کچا ) لہسن تھا میں نے آپ سے پو چھا : کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرما یا : " نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ " میں نے عرض کی : جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے ۔
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حدیث 5358 — صحيح مسلم 36:232
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، - وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، - فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلْوِ - قَالَ - فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " السُّفْلُ أَرْفَقُ " . فَقَالَ لاَ أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا . فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْعُلْوِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْكُلْ . فَفَزِعَ وَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ " . قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَ . قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُؤْتَى .
حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجہ میں تھے ۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں ، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے ۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لئے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے ( رہنے والوں کے لئے اور آنے والوں کے لئے اور اسی لئے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے ) ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجہ میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرتے تھے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا ) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ( آدمی سے ) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے ( برکت کے لئے ) کھاتے ۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا ، جس میں لہسن تھا ۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے ، مجھے بھی ناپسند ہے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( فرشتے ) آتے تھے ( اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے ) ۔
جریر بن عبدالحمید نےفضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابو حازم اشجعی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ( کھانے پینے کی ) بڑی تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا ، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں ۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا ۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا ( راوی ) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا ۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا ( یعنی خوش ہوا ) ۔
وکیع نے فضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نےابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری ، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھاناتھا ، اس نے اپنی بیوی سے کہا ، بچوں کو سلا دو اور چراغ بھجادو اورجو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کردو ، تب یہ آیت نازل ہوئی : وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ " وہ ( دوسروں کو ) خود پرترجیح دیتے ہیں چاہے انھیں سخت احتیاج لاحق ہو ۔
ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو حازم سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کےلئے کچھ بھی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ایسا شخص ہے جواس کو مہمان بنائے؟اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے! " انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے ، انھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاجاتا تھا ، وہ اس ( مہمان ) کواپنے گھر لے گئے ، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، انھوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا ۔
حدیث 5362 — صحيح مسلم 36:236
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ، لِي وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " . قَالَ فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ - قَالَ - فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ - قَالَ - ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ - قَالَ - نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ فَلاَ يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ . وَعَلَىَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَىَّ خَرَجَ رَأْسِي وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَاىَ وَجَعَلَ لاَ يَجِيئُنِي النَّوْمُ وَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ - قَالَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ الآنَ يَدْعُو عَلَىَّ فَأَهْلِكُ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي " . قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَىَّ وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لآلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ - قَالَ - فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَشَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ . فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ . فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ رَوِيَ وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الأَرْضِ - قَالَ - فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا وَكَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذِهِ إِلاَّ رَحْمَةٌ مِنَ اللَّهِ أَفَلاَ كُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا " . قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ .
شبانہ بن سوار نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ( فاقہ وغیرہ کی ) تکلیف سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی ۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پیش کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں قبول نہ کرتا تھا ۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں تین بکریاں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا دودھ دوہو ، ہم تم سب پئیں گے پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے ، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے ۔ ایک رات جب میں اپنا حصہ پی چکا تھا کہ شیطان نے مجھے بھڑکایا ۔ شیطان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہے ، مل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہو گی؟ آخر میں آیا اور وہ دودھ پی گیا ۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا تو اس وقت شیطان نے مجھے ندامت کی اور کہنے لگا کہ تیری خرابی ہو تو نے کیا کام کیا؟ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور دودھ کو نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی ۔ میں ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور مجھے نیند بھی نہ آ رہی تھی جبکہ میرے ساتھی سو گئے اور انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا ، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی ، اس کے بعد دودھ کے پاس آئے ، برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور میں تباہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! کھلا اس کو جو مجھے کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے ۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا ، چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کروں ۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا ہے ۔ پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے ( یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہیں کرتے تھے ) ۔ اس میں میں نے دودھ دوہا ، یہاں تک کہ اوپر جھاگ آ گیا ( اتنا بہت دودھ نکلا ) اور میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے حصے کا دودھ رات کو پیا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر مجھے دیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا ۔ پھر مجھے دیا ، جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے ، تب میں ہنسا ، یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر گر گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی؟ وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا اور میں نے ایسا قصور کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کا دودھ ( جو خلاف معمول اترا ) اللہ کی رحمت تھی ۔ تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے کہ وہ بھی یہ دودھ پیتے؟ میں نے عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا کلام دے کر بھیجا ہے کہ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں جب آپ نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی تو کوئی بھی اس کو حاصل کرے ۔