عیسیٰ بن یو نس نے شعبہ سے ، انھوں نے سماک بن حرب سے ، انھوں نے علقمہ بن وائل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہا کرو ۔ لیکن حبلہ کہہ لو ۔ " آپ کی مراد انگور سے تھی ۔
حدیث 5873 — صحيح مسلم 40:12
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُولُوا الْكَرْمُ . وَلَكِنْ قُولُوا الْعِنَبُ وَالْحَبَلَةُ " .
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے علمقہ بن وائل سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کرم نہ کہو عنب اور حبلہ ( انگور کی بیل ) کہہ لو ۔
لا ء کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہواور تمھا ری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ۔ البتہ یو ں کہہ سکتا ہے ۔ میرا لڑکا میری لڑکی ، میرا جوان ، خادم ، مری خادمہ
جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ئی شخص ( کسی غلام کو ) میرا بندہ نہ کہے ، پس تم سب اللہ کے بندےہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے : میرارب ( پالنے والا ) البتہ میرا سید ( آقا کہہ سکتا ہے ۔ "" حدیث نمبر5876 ۔ ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ "" غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ "" ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ "" کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔)
ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ " غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ " ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ " " کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔
حدیث 5877 — صحيح مسلم 40:16
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ . وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي . وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَىَ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي . وَلْيَقُلْ فَتَاىَ فَتَاتِي غُلاَمِي " .
ہمام منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔
حدیث 5878 — صحيح مسلم 40:17
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي . وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي " . هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَذْكُرْ " لَكِنْ " .
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ۔ ان دونوں ( سفیان اور ابو اسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : " میراجی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔ " یہ ابو کریب کی حدیث کے الفا ظ ہیں ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور " لیکن " کا لفظ نہیں کہا ۔
ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔)
ابو اسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خُلید بن جعفرنے ابو نضر ہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سےاچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ " اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھا نے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا ۔