قرآني·Qurani
اردو

الإمارة

267 احادیث · #4701–4967

حدیث 4871 — صحيح مسلم 33:167
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الإِسْلاَمِ إِلاَّ أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الإِسْلاَمِ إِلاَّ أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ ‏.‏ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ وَقَالَ لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ‏}‏ الآيَةَ إِلَى آخِرِهَا ‏.‏
ابوتوبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے زید بن سلام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلاؤں اور اس کے سوا کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ دوسرے نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف مسجد حرام کو آباد کروں اور اس کے سوا اور کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ تیسرے نے کہا : جو تم سب نے کہا اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا افضل ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس آواز اونچی نہ کرو ۔ ( پھر بتایا کہ ) وہ جمعے کا دن تھا ۔ لیکن ( جمعے سے پہلے گفتگو کرنے کے بجائے ) جب میں نے جمعہ پڑھ لیا تو حاضر خدمت ہوں گا اور جس کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا ، تو ( اس موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ( ہوئی ) بھی ( جو آپ نے سنائی ) : " کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے ( عمل ) جیسا سمجھتے ہو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ( اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا؟ ) " آیت کے آخر تک ۔
حدیث 4872 — صحيح مسلم 33:168
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ ‏.‏
یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں معاویہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زید نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا ، جس طرح ابوتوبہ کی حدیث ہے ۔
حدیث 4873 — صحيح مسلم 33:169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح کو یا شام کو ایک بار اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔
حدیث 4874 — صحيح مسلم 33:170
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ، بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے ( جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے ) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے ۔
حدیث 4875 — صحيح مسلم 33:171
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کے وقت کا ایک سفر یا شام کے وقت کا ایک سفر ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔
حدیث 4876 — صحيح مسلم 33:172
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنْ أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ‏"‏ وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میری حالت میں ایسے لوگ نہ ہوتے ۔ " ( جو جہاد پر جانے کے لیے انتہائی ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے اور نہ میں ان کے لیے مہیا کر سکتا ہوں ) پھر آپ نے گفتگو فرمائی ، اس میں آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کا ایک سفر کرنا یا شام کا ایک سفر کرنا دنیا و ما فہیا سے بہتر ہے ۔
حدیث 4877 — صحيح مسلم 33:173
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ وَإِسْحَاقَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن یزید مقری نے سعید بن ابی ایوب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک معافری نے ابوعبدالرحمٰن حُبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں ایک بار صبح کو یا شام کو نکلنا ( یا پہرہ دینا ) ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔
حدیث 4878 — صحيح مسلم 33:174
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ، شَرِيكٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ سَوَاءً ‏.‏
عبداللہ بن مبارک نے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب اور حیوہ بن شریح نے بتایا ، دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بالکل پچھلی روایت کے مانند ۔
حدیث 4879 — صحيح مسلم 33:175
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏ فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوسعید! جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ( دل کی گہرائیوں ) سے راضی ہو گیا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ " حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو کہنے لگے : اللہ کے رسول! یہی بات میرے سامنے دوبارہ ارشاد فرمائیں ، آپ نے ایسا ہی کیا ، اس کے بعد فرمایا : " ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کو سو درجے رفعت بخشی جاتی ہے اور ہر دو درجوں میں زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔ " کہا : ( میں نے عرض کی ) اللہ کے رسول! وہ ( بات ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔
حدیث 4880 — صحيح مسلم 33:176
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ ‏"‏ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلاَّ الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِي ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے سعید بن ابی سعید ( مقبری ) سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور انہیں بتایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ( باقی ) تمام اعمال سے افضل ہے ۔ " ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اللہ کی راہ میں اس حالت میں شہید کر دیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر نہ بھاگ رہے ہو ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے کس طرح کہا تھا؟ " اس نے عرض کی ( میں نے اس طرح کہا تھا ) : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے ۔ " آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اس حالت میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاؤ کہ صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہیں ، ( تو سارے گناہ مٹا دیے جائیں گے ) سوائے قرض کے ۔ جبریل علیہ السلام نے ( ابھی آ کر ) مجھ سے یہ کہا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔