یحییٰ بن سعید نے سعید بن ابی سعید مقبری سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
حدیث 4882 — صحيح مسلم 33:178
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي . بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ .
عمرو بن دینار اور محمد بن عجلان نے محمد بن قیس سے روایت کی ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ان ( عمرو اور ابن عجلان ) میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ منبر پر تھے ، اس نے کہا : آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی تلوار سے وار کروں؟ ( کافر کو قتل کروں ، پھر شہید کر دیا جاؤں ، آگے ) مقبری کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
مفضل بن فضالہ نے عباس قِتبانی کے بیٹے عیاس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید ابو عبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، سوائے قرض کے ۔
سعید بن ابی ایوب نے کہا : مجھے عیاش بن عباس قتبانی نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے سے قرض کے سوا باقی تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور کھاتے پیتے ہیں ۔ اللہ نے تین بار ایسا کیا ( جھانک کر دیکھا اور پوچھا ۔ ) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا ، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو انہوں نے نے کہا : اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید کیے جائیں ۔ جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا ۔
محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پوچھا : لوگوں میں سے کون سا شخص افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : " جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ۔ " اس نے پوچھا : اس کے بعد پھر کون افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : " وہ مومن افضل ہے جو کسی پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں رہتا ہے ، اللہ کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے ۔
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! لوگوں میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا : " ایسا مومن جو اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ۔ " اس نے پوچھا : اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا : " پھر وہ آدمی جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں تنہا رہتا ہے ، اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے ۔
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : ہمیں عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بعجہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی نے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو ، اس کی پیٹح پر اللہ کی راہ میں اڑتا ( تیزی سے حرکت کرتا ) پھرے ، جب بھی ( دشمن کی ) آہٹ یا ( کسی کے ) ڈرنے کی آواز سنے ، اڑ کر وہاں پہنچ جائے ، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو جہاں اس کے ہونے کا گمان ہو یا پھر وہ آدمی جو بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ان چوٹیوں میں سے کسی ایک چھوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہو ، نماز قائم کرے ، زکاۃ دے اور یقینی انجام ( موت ) تک اپنے رب کی عبادت کرے ، اچھائی کے معاملات کے سوا لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔
قتیبہ بن سعید نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے ، انہوں نے اور یعقوب بن عبدالرحمٰن دونوں نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے اسی کے مانند روایت بیان کی ( بعجہ کا مکمل نام لیتے ہوئے ) بعجہ بن عبداللہ بن بدر کہا ۔ اور یحییٰ کی روایت کے برعکس ( ان وادیوں میں سے ایک وادی کے بجائے ) " ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں " کہا ۔