قرآني·Qurani
اردو

الإيمان

441 احادیث · #93–533

حدیث 193 — صحيح مسلم 1:100
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ وَالإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ دلوں کی سختی اور جفا ( اکھڑپن ) مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے ۔
حدیث 194 — صحيح مسلم 1:101
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ‏.‏ أَوَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَىْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔ ‘ ‘
حدیث 195 — صحيح مسلم 1:102
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٍ ‏.‏
(ابو معاویہ اور وکیع کے بجائے ) جریر نے اعمش سے ان کی اسی سند سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے ، جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے ... ‘ ‘ جس طرح ابو معاویہ اور و کیع کی حدیث ہے ۔
حدیث 196 — صحيح مسلم 1:103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِسُهَيْلٍ إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ، عَنِّي رَجُلاً قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ‏"‏ قُلْنَا لِمَنْ قَالَ ‏"‏ لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی ( سفیان نے کہا : ) مجھے امید تھی کہ وہ ( مجھے خود روایت سنا کر ) ایک راوی کم کر دے گا ( چنانچہ سہیل نےکہا ) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد سے سنی ، وہ شام میں ان کا دوست تھا ۔ ( محمد بن عباد نے کہا ) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت سنائی کہ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔ ‘ ‘ ہم ( صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے پوچھا : کس کی ( خیر خواہی؟ ) آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانون کی ( خیرخواہی ۔ ) ‘ ‘
حدیث 197 — صحيح مسلم 1:104
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
سفیان ثوری نے سہیل بن ابی صالح سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسو ل اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سابقہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث 198 — صحيح مسلم 1:105
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَهُ وَهُوَ، يُحَدِّثُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
ہمیں روح بن قاسم نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں سہیل نے عطاء سے اس وقت سن کر روایت کی جب وہ ابو صالح کو حدیث بیان کر رہے تھے ، ( کہا : ) تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، ( کہا : ) رسو ل اللہ ﷺ سے روایت ہے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
حدیث 199 — صحيح مسلم 1:106
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏
قیس ( بن ابی حازم ) نے حضرت جریر ( بن عبد اللہ ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
حدیث 200 — صحيح مسلم 1:107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، سَمِعَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏
زیاد بن علاقہ ( کوفی ) سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے نبی ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
حدیث 201 — صحيح مسلم 1:108
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنَنِي ‏ "‏ فِيمَا اسْتَطَعْتَ ‏"‏ ‏.‏ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏ قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ‏.‏
سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔ ) سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔)
حدیث 202 — صحيح مسلم 1:109
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولاَنِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلاَءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُولُ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ ‏"‏ وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
یونس بن ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کرر ہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب شراب پی رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمٰن نے مجھےخبر دی کہ ( اس کے والد ) ابوبکر ان کے سامنے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ سب باتیں روایت کرتے ، پھرکہتے : اور ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان میں یہ بات بھی شامل کرتے تھے کہ ’’کسی بڑی قدر و قیمت والی چیز کو ، جس کی وجہ سے لوگ لوٹنے والے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہوں ، وہ نہیں لوٹتا کہ جب لوٹ رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔